فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / عاشورا کے روزے کی قضا

عاشورا کے روزے کی قضا

تاریخ شائع کریں : 2017-02-28 | مناظر : 1147
- Aa +

جس نے سفرکی وجہ سےعاشورا کا روزہ توڑ لیا تو کیا وہ اسکی قضا کرے؟

قضاء صيام عاشوراء

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ تعالی کی توفیق سے جواب دیتے ہوے ہم عرض کرتے ہے کہ

عاشورا اورعرفہ کا روزہ سفرمیں رکھنا ہوتوعلماء کےاس میں دوقول ہے۔ ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ جب اس میں طاقت ہو تو اسے چاہیئے کہ ان دوروزوں میں سستی نہ کرے کیونکہ یہ ایسے مستحبات ہیں جوفوت ہوجاتے ہیں۔ سنت جب فوت ہوجائے تواس کامحل بھی فوت ہوجاتا ہےاور اس کی قضا بھی جائز نہیں۔

جب  یہ فوت ہوتواس  کامحل  بھی فوت ہوجاتا ہے کیونکہ اس کی فضیلت کا تعلق اس دن سے ہوتاہےتواس دن کے علاوہ کوئی دوسرادن اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتا

اور ان میں سے بعض علماء کا قول یہ ہے کہ یہ روزہ نہ رکھے کیونکہ اللہ کا یہ قول عام ہے فرض روزے کے بارے میں: [

پھر بھی تم میں سے اگر کوئ مریض ہو یا سفر میں ہوتووہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے] [البقرۃ۔۱۸۴]. لیکن اس حالت  دوسرے دنوں کی گنتی ہے ہی نہیں،یعنی اگر یہ فوت ہوجائے توعاشورا کےروزے کی قضا نہیں پس فضیلت کا تعلق دن سے ہے۔ اور اس طرح انہوں نے فرمایا کہ اس کا روزہ ساقط ہوجائے گا اوراس کا اجر لکھا جائے گا اور اس کی قضا نہیں ہوگی۔ کیونکہ صحیح بخاری میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کی حدیث میں آتاہے کہ آپﷺنےفرمایا: [جب بندہ مریض ہو یا سفرمیں جائے تو اسکے لئے اتنا اجر لکھا جاتا ہے جتنا کہ یہ صحیح اورٹھیک ہونےکی حالت میں کرتا تھا] اوریہ اس بات پردلیل ہے کہ اسکو تمام اس چیز کا اجردیا جاتا ہے جو یہ حالت اقامت میں کرتا تھا اور اس میں سے روزہ بھی ہے اگراقامت کی حالت میں روزہ رکھنا اس کی عادت میں ہو۔ پس یہ سفر میں روزہ نہ رکھے۔

اورفضیلت پانےکے اندر سب سے قریب ترین بات یہ ہے کہ اگر اسے مشقت نہ ہوتو اسے چاہیئے کہ اس کاروزہ فوت نہ ہو۔

اور یہ قول علماء کی ایک جماعت کا ہے اورجو روزہ چھوڑدے حالانکہ اس کی عادت روزہ رکھنے کی ہو تو امید  ہے کہ اس کے لئے اجر لکھا جائے گا۔

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں