فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / وہ اعذار جو رمضان میں افطار کو جائز قراردیتی ہے؟

وہ اعذار جو رمضان میں افطار کو جائز قراردیتی ہے؟

تاریخ شائع کریں : 2017-02-28 | مناظر : 1107
- Aa +

وہ کون سے اعذار ہیں جن سے رمضان میں افطار یعنی روزہ توڑنا جائزہوتا ہے؟

الأعذار التي تبيح الفطر في رمضان؟

اما بعد۔۔۔

اللہ تعالی کی توفیق سے جواب دیتے ہوے ہم عرض کرتے ہے کہ

 بے شک اللہ نے روزے والی آیت میں دوعذروں کوبیان فرمایا۔ اللہ نے فرمایا: "پھر بھی تم میں سے اگر کوئ مریض ہو یا سفر میں ہوتووہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے"۔ (البقرہ: ۱۸۴) یہ دو عذر ہے سفر اورمرض۔ اور ان دوعذروں کےذیل میں تفصیلات ہیں جن کاتعلق اس مرض کی نوعیت کے ساتھ ہے جو روزے کے افطارکوجائز قراردیتا ہے۔ اور وہ سفرکے ساتھ ہےجورمضان میں افطارکوجائز قرار دیتاہے۔ اس کی وضاحت تو کافی تفصیلی ہےلیکن ہم مختصر طورپران عذروں کے متعلق بات کرتے ہیں یعنی کہ مرض اورسفر۔

اورکچھ آیات میں ایک تیسرے عذرکی طرف بھی اشارہ ہے اوروہ قدرت کا نہ ہوناہے۔ اورآپ یہ کہو گے کہ روزے کے آیات میں اس عذر کی طرف کہاں اشارہ ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان میں ہے: "اورجو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہو وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا کر روزے کا فدیہ ادا کردیں"۔ (البقرۃ،۱۸۴) اور یہاں سے میں کہتا ہوں کہ روزہ ابتدائی طورپرجب اللہ نے اہل ایمان پر فرض کیا توکچھ گنے چنے دن فرض کئے تھے پھر اللہ نے مؤمنين کودواختیاردیے کہ یا توروزہ رکھو یاافطار کرواور اس افطار کےبدلے فدیہ دو۔ پس اللہ نےفرمایا: "گنتی کے چند دن روزے رکھنے ہیں، پھر بھی اگر تم میں سے کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لےاورجو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہو وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا کر روزے کا فدیہ ادا کردیں"۔

یعنی جولوگ طاقت رکھتے ہیں ان دنوں میں روزہ رکھنے کا اور انہوں نےروزہ نہ رکھا تو پھر ان پر لازم ہے کہ ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔ "پس جس نے اپنی طرف سےاحسان کیا"۔(البقرۃ :۱۸۴) یعنی مسکین کواس مقدار سے زیادہ دیا "تووہ اس کےلئےاور بھی پہتر ہے"۔ (البقرۃ :۱۸۴) پھر فرمایا {اگر روزہ رکھ لوتو بہتر ہے} یعنی تمھاراروزہ رکھنا تمھارے لئے بہتر ہے اس بات سے کہ تم کھاناکھلا کر فدیہ دو۔

اور بہت سے مفسرین اس آیت کے بارے میں کہتےہیں کہ یہ آیت اللہ کےاس قول سے منسوخ ہے: "تم میں سے جو شخص رمضان کا مہینہ پالے تووہ روزہ رکھے"۔ (البقرۃ:۱۸۵)،اورجیسا کہ صحیح بخاری میں ہےکہ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے،بلکہ یہ آیت دراصل بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے بارے میں ہے جو روزہ رکھنے پرقادر نہ ہواورنہ روزہ کا تحمل رکھتے ہوں۔ پھر یہ اشخاص ہرروزے کےبدلےایک مسکین کوکھانا کھلائے۔اور حضرت ابن عباس ؓکےقول کامطلب یہ ہے کہ اس آیت کا حکم کلی طور پر نہیں اٹھایا گیا ہے بلکہ اس کاحکم باقی ہے لیکن صرف کسی ایک جزئی میں۔ اور وہ انکےمتعلق ہے جوروزہ پر قادرنہ ہو۔

اوریہاں پر ہم ایک تیسری قسم کااضافہ کرتےہیں: ان لوگوں میں سے جن کےلئے روزہ افطار کرناصحیح ہے اوریہ وہ لوگ ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے زیادہ بڑھاپے، بڑی عمر ہونے یا اسی طرح کی کسی اور وجہ سے۔ توان تمام اقسام کے لیے روزہ افطار کرنا صحیح ہے اور ان تین اعذار پر اتفاق ہےاورعلماءکااس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ ان سارے اسباب سے روزہ توڑنا جائز ہوجاتاہے ۔

ایک چوتھاعذربھی ہے لیکن وہ ان گذشتہ تین سے مختلف ہے اس لحاظ سے کہ اس کےساتھ روزہ جائزنہیں کیونکہ وہ تین اعذار تو روزے کا توڑناجائز کرتی ہےلیکن جہاں تک چوتھےعذرکی بات ہےتو اس کے ساتھ روزہ رکھنا ہی حرام ہےاور وہ عذر حیض ہے کیونکہ یہ وہ عذر ہے جس کے ساتھ روزہ رکھنامنع ہےاور اس میں سب کااتفاق ہےاورعلماء کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔اور اسی پرابن جریر،طبری اورعلامہ نووی رحمہم اللہ نے اجماع نقل کیا ہے۔اوربہت سے اہل علم کی جماعتیں اس بات کی طرف گئی ہے کہ حائضہ کاروزہ صحیح نہیں ہےاور یہی وجہ ہے کہ اگرایک حائضہ عورت یہ کہتی ہےکہ لوگوں کاروزہ ہےاورمیں یہ چاہتی ہوکہ روزہ رکھو اورپھر بعد میں دوبارہ بھی اس کورکھوں تو ہم اس کوکہیں گے کہ تجھے روزہ رکھنے کاحکم نہیں اور یہ روزہ جوتم رکھ رہی ہویہ اللہ کے ہرگز آپ کو قریب نہ کرے گا بلکہ اللہ سے تجھےدور کرے گا۔ بلکہ گنہگار ہوگی اگر اس نے روزہ کے ذریعے اللہ کاتقرب حاصل کرنی کی نیت کی، کیونکہ یہ عورت اس زمرہ میں داخل ہےجس کے متعلق صحیحین میں قاسم بن محمد ؒ کی حدیث ہے جوحضرت عائشہؓ سےنقل کی گئی ہے کہ نبیﷺ نےفرمایا:(جوھمارے اس دین میں نئی بات گھڑے گا جو اس میں سے نہ ہوتووہ مردود ہے)۔ پس اس عورت نے ایک نیا کام شروع کیا کیونکہ اس نے ایسے وقت میں روزہ رکھا جب اللہ نے اس پر حرام کررکھاتھا۔ جیسےکےاگر وہ حالت حیض میں نماز پڑھے۔ تو اس کی نماز اس کوفائدہ نہیں دیتی بلکہ اس کواللہ جل شانہ سے دورکرتی ہےاور یہ علماءکےدرمیان اس بات پراتفاق ہے۔

پس حائضہ ان میں سے ہے جن کا روزہ صحیح نہیں ہے۔ اور خلاصہ یہ کہ وہ بھی ان معذورین میں داخل ہے، یا پھر ان میں سے ہے جن کےلئے روزہ افطارکرناصحیح ہےیعنی کہ جن کوافطار سےمنع نہیں کیا جاتا۔

حائضہ عورت روزہ نہ رکھےاس بات کی دلیل وہ حدیث ہے جو صحیحین میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے جب عورت میں دین اورعقل کی کمی کےبارے میں بتایا توفرمایا: (کہ جہاں تک دین کی کمی کی بات ہے توعورت کئی راتیں ایسی گزارتی ہیں کہ نہ وہ نماز پڑھتی ہےاورنہ روزے رکھتی ہے)۔ اورصحیحین میں ہے کہ(کیا ایسا نہیں کہ جب انہیں حیض آتا ہے تووہ نہ روزہ رکھتی ہے اورنہ نماز پڑھتی ہے)۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کواس سے روکھا گیا ہے۔ اورصحیح مسلم میں حضرت معاذ ؓ کی حدیث جوانہوں نے حضرت عائشہؓ سے نقل کی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ: کیاوجہ ہے کہ حائضہ روزوں کی تو قضا کرتی ہے پر نمازوں کی قضا نہیں کرتی؟ تو حضرت عائشہؓ نےفرمایا: کہ ہمیں اس طرح کا معاملہ نبیﷺ کے دور میں پیش آتا تھا تو ہمیں روزے کی قضاء کا تو حکم دیا جاتا لیکن نمازوں کی قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا۔

پس ان تمام کےلئے رمضان کے روزے نہ رکھنا مباح ہے ان میں سے پہلا مریض ہے، پھر مسافر، پھروہ ہے جوطاقت نہ رکھے بڑھاپے یا ایسے مرض کی وجہ سے جس سے ٹھیک ہونے کی امید نہ ہو، پھر حائضہ۔ پس یہ سارے وہ ہیں کہ جن کو اللہ نے اجازت دی ہے کہ یہ روزہ افطار کرے  دن کے وقت میں۔

اورحائضہ کےحکم میں نفاس والی عورت بھی آتی ہےپس یہ بھی ان میں سے ہے کہ جن کاروزہ صحیح نہیں ہے اور یہ علماء کےدرمیان اتفاقی مسئلہ ہے۔

متعلقہ موضوعات

آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں