فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / عاشوراء کا روزہ اوراس دن مسلمان پرجو احکامات واجب ہیں

عاشوراء کا روزہ اوراس دن مسلمان پرجو احکامات واجب ہیں

تاریخ شائع کریں : 2017-02-28 | مناظر : 1831
- Aa +

یوم عاشوراء کے روزے کی کیا فضیلت ہے؟ اور اس دن مسلمانوں پر کیا واجب ہے؟

صيام يوم عاشوراء وما يجب على المسلم فيه

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ تعالی کی توفیق سے جواب دیتے ہوے ہم عرض کرتے ہے کہ 

اس روزے کی فضیلت مشہورہے اورظاہرہے اور اس کی ایک خاص اورمشترک فضیلت ہے۔

اس کی خاص فضیلت یہ ہے کہ محرم کا مہینہ بقیہ مہینوں سے ممتاز ہوجاتا ہےوہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اپنی طرف نسبت کی ہےجیسا کہصحیح بخاری میں ہے کہ نبیﷺ سے جب رمضان کےبعد افضل روزوں کےبارے میں پوچھا گیا تو آپﷺ نے فرمایا : (اللہ کا مہیںہ جو کہ محرم ہے) اورمہیںوں میں سے کوئی ایسا مہیںہ نہیں ہے جس کی نسبت اللہ نےاپنی طرف کی ہو سوائے اس مہیںہ کے۔

یہ اس محرم کے مہینے کی خاص فضیلت ہے اوریہ خاص فضیلت اس مہینے پر ایک خاص قسم کی توجہ واجب کرتی ہے۔ کیونکہ اللہ نے جن مہینوں اور زمانوں اوراشخاص کی نسبت اپنے طرف کی ہو،تو یقینا وہ نسبت ان کو عزت بخشنے کےلئے ہوتی ہے پس اگر یہ چیز جس کی نسبت ہوئی ہے یہ مخلوقات میں سے تویہ نسبت شرافت کےلئے ہے جیسا کہ اللہ کی اونٹنی ،اللہ کاگھر اور اس طرح کی اورچیزیں تو یہ اس مہینہ کی ایک خاص امتیازہے۔

اور جہاں تک مشترک خاصیت کی بات ہے تو وہ یہ ہے کہ یہ مہینہ ان مہینوں میں سے ہے جو حرمت والےہیں جن کے بارے اللہ نے فرمایا: [ان میں سے چارمہینےحرمت والے ہیں یہی دین کا سیدھا سادہ تقاضی ہے لہذا ان مہینوں کے معاملے میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو] (التوبہ:۳۶) اہل علم کا اللہ کے اس قول: [ نہ ظلم کرواپنے پر] (التوبۃ :۳۶) کے متعلق دو اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں ضمیر حرمت والے مہینوں کی طرف لوٹتی ہے۔ اور ظلم منع ہے ہرحال میں اورہروقت میں اورہر جگہ میں ۔ لیکن ان مہینوں میں ظلم سے خاص طورسےروکنے کی وجہ یہ کہ یہ عظمت والے مہینے ہیں اور جس کی عظمت اللہ کرے اس کی تعظیم ضروری ہے۔اوران میں احتیاط زیادہ ہوتی ہے۔

اوراس طرح اس مہینہ کی خاص فضیلتوں میں سے - جوکہ عملی خصوصیات ہیں - ایک یہ بھی ہے کہ محرم کا مہینہ بےشک ان مہینوں میں سے ہے جن کےروزوں کو پسند کیا گیا ہے ۔ کیونکہ نبیﷺ سے رمضان کے کے بعد افضل روزوں کا جب پوچھا گیا تو آپﷺ نے فرمایا (اللہ کا مہینہ محرم )اور نبیﷺسےکہی نہیں ثابت کہ آپﷺ نے کسی مہینےکے مکمل روزے رکھے ہو سوائے رمضان کے، لیکن اس مہینہ کے بیشتر روزے رکھنا یہ نبیﷺکی طرف سے بطور فضیلت اور استحباب کے ثابت ہے ۔ اورہاں  عمل کے لحاظ سے تو یہ ہے کہ نبیﷺ کا بیشتر روزے رکھنے کا معمول شعبان میں ہی ہوتا۔ آپﷺ پر افضل درود وسلام ہو۔

اورسب سےخاص چیزجواس مہینے میں ہےوہ دسویں دن کا روزہ رکھناہے ،اوریہ اس وجہ سے ہے کیونکہ ابی قتادہؓ کی حدیث جو صحیح میں ہے اس میں وارد ہے کہ نبیﷺ سے عاشوراءکے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا: (میں اللہ کی ذات سے یہ امید کرتا ہوں کہ اللہ ایک سال کے گناہ معاف فرما دے گا) اوراس طرح صحیحین میں حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث میں ہے کہ نبیﷺ نے اس دن کے سوا کبھی کسی ایسے دن کا روزہ نہ رکھا جس کی فضیلت اور دنوں میں تلاش کرتے ہو۔ یعنی عاشورا کادن ۔ یہ ایسا دن ہے کہ نبیﷺاسکی فضیلت تلاش کرتےتھے اور یہ دن روزوے کےمستحب ہونے کے اعتبار سے تمام دنوں سے خاص ہیں ۔

اور ابتدائی زمانہ میں یہ واجب تھا ۔ لیکن یہ واجب ہونا رمضان کےفرض ہونےسے ختم ہوگیا اور اس کےبعد امت کےحق میں مستحب باقی رہا ۔ اس دن کاروزہ رکھنا یہ ایک اتفاقی چیز ہے مستحب ہونے اور باعث فضیلت ہونے کے اعتبارسے ،اوریہ سب سے کم مرتبہ ہے محرم کےروزوں میں سے  صرف عاشورا کا روزہ اس  خاص فضیلت کوحاصل کرنے کےلئے رکھاجائے ۔ مگریہ کہ نبیﷺ نے اس بات کو پسند فرمایا کہ ایک روزہ اس سے پہلے رکھا جائے جب آپ کے پاس کچھ صحابہؓ حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا کہ یہ توایسا دن ہے کے یہود اس کی تعظیم کرتے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا: (اگرمیںاگلے سال تک زندہ رہا  تو نویں کا روزہ بھی رکھوں گا) یہ اس بات پر دلیل ہے کے کچھ فوائد کوحاصل کرنےکےلئے اس کےساتھ ایک دن زیادہ کرنا چاہیئے،

اور فوائد یہ ہیں :

پہلا : جس عمل کا نبیﷺ نے اردہ کیا اس کو بجا لانا ہے۔

دوسرا : یہ ہےکہ یہود کی مخالفت کرنا اوران کےعلاوہ کی بھی کیونکہ یہود اورنصاریٰ کی مخالفت شریعت کی بنیادوں میں سے ہیں ۔ اور یہ مخالفت شریعت میں بہت سی جگوں میں نظر آتی ہے خصوصا جب ایسا ممکن بھی ہو اور اس عبادت میں اس مخالفت اور انسان کےدرمیان کوئی بھی رکاؤٹ نہیں بنتا۔

تیسرا : یہ کہ اس فضیلت کوثابت کرنا ہے کہ محرم کے مہینہ کا روزہ بہت فضیلت والا ہے کیونکہ محرم کےروزہ کو بقیہ مہینوں کےروزہ پر فضیلت حاصل ہے ۔

چوتھا : یہ کہ جس شخص نے ایک دن کا روزہ اللہ کےلئے رکھا تو جیساکہ صحیح میں حضرت ابوسعیدخدریؓ کی حدیث میں ہے کہ ( اللہ اس کے اورجہنم کےدرمیان ستر خرفف کی دوری کرے گا ) پس جو فضیلت اور اجر اس دن کےروزہ  پر مرتب ہے اس کو حاصل کرناہے ۔

اور ہاں اس کے ایک دن بعد کا روزہ رکھنا تو جیسا کہ مسنداحمد کی حدیث میں ہے - لیکن اس حدیث کی اسناد میں وہم ہے - اوروہ حدیث یہ ہےکہ(روزہ رکھواس سے ایک دن پہلےاورایک دن بعد میں) لیکن وہ حکم جس کےثبوت میں نہ کوئی شک ہے اورنہ کوئی اختلاف وہ عاشوراء کےدن کی فضیلت ہے اور اس کے ساتھ اس سے پہلے ایک دن کا اضافہ کرنا ہے جو نو محرم  کا دن ہے۔

اور بعض اہل علم نےاس کا ایک تیسرا طریقہ ذکرکیا ہےاوراس کو سب سے بہتر طریقہ شمارکیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس سے ایک دن پہلے اورایک دن بعد میں روزہ رکھے۔ جیساکہ حافظ ابن حجرؒ اورحافظ ابن قیمؒ نے ذکرکیا ہے ۔ لیکن اس پر کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی اگر کوئی چاہتا ہے کہ وہ گیارہ کا روزہ رکھے ، کیونکہ وہ اس کےساتھ ہرمہینےوالے تین روزے پورے کرنا چاہتا ہو یا اس لئے کہ وہ محرم کےمہینے میں زیادہ روزے رکھنا پسند کرتا ہو یا اس لئے کہ وہ احتیاط کرتا ہواس بات میں کہ کہیں مہینہ کی ابتدا آگے پیچے نہ ہو تو اس لئے اس نے عاشوراء کے بعد بھی روزہ رکھ لیا تو اس میں گنجائش ہے ان شاءاللہ۔

 

اور اگروہ صرف ا دسویں روزے پر اکتفا کرے تواس کاروزہ مقبول ہوگا اور اس کو اجر ملے گا اور اس میں کوئی کراہت نہیں اور اسی بات کی اہل علم کی ایک جماعت نے صراحت کی ہے ان میں سےشیخ الاسلام ابن تیمیہؒ وغیرہ ہے اوراس بات کی بھی کہ صرف دسویں کے روزہ رکنے میں کوئی کراہت نہیں ہے۔

 

موجودہ سال میں دسویں محرم کاروزہ ہفتے کےدن میں آیا ہے اوریہاں ہم ایک اہم مسئلہ کی طرف آتے ہیں جو کہ ایک حدیث ضعیف کی طرف منسوب ہے ،اور وہ یہ ہےکہ جس کو پانچ ائمہنے روایت کیا ہے حدیث صماء بنت بسر کے حوالے سے کہ نبی نے فرمایا: (نہ رکھو روزہ ہفتے کےدن کا سوائے اس کےجو فرض ہوتم پر،اوراگر نہ پائےتم میں سے کوئی سوائے انگوریا درخت کے چھلکے کے تواس سے افطار کرلے) اور ایک روایت میں ہے(اگر چاہے اس تو اسکو چبا لے) پس اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے اورمتن میں ضعف بھی ہے۔ کیونکہ یہ ان صحیح احادیث کےبھی مخالف ہے جو مشہورہے اور جن میں ہفتے سے پہلے دنوں کے ساتھ ملا کر ہفتے کے دن کا روزے رکھنے کی اجازت ہے۔ بلکہ اس میں ھفتے کے روزے کا حکم ہے بغیر اس بات کےکہ پہلے کودیکھا جائے یابعد والے کو ۔

پھر حدیث کا ظاہر یہ ہے کہ اس میں سوائے فرض کا روزہ جائز نہیں اور اس بات کا کوئی بھی قائل نہیں۔ یہاں تک کہ جو ہفتے کے دن میں روزہ کا مکروہ یا حرام ہونے  کے قائل ہیں تووہ بھی صرف اس دن کا اکیلے روزہ رکھنا مکروہ اورحرام سمجھتےھیں اور اگر اس روزے کو کسی اور کے ساتھ ملا کر رکھے جیساکہ پہلے جمعہ پھر ہفتہ کا روزہ رکھے یا ہفتے کا رکھے پھر اتوار کا رکھے تواس صورت کو مفہوم حدیث میں داخل نہیں کرتے حلانکہ یہ صورت بھی حدیث میں بالکل ظاہر ہے

اور دسویں عاشوارء کوہفتہ ہو تو افضل یہ ہے کہ جمعہ کا اور ہفتے کاروزہ رکھے۔

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں