فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / جس شخص کا کام مشکل ہو اور اس کےلئے روزہ رکھنا بھی مشکل تو کیا اس کےلئے روزہ توڑنا جائز ہے؟

جس شخص کا کام مشکل ہو اور اس کےلئے روزہ رکھنا بھی مشکل تو کیا اس کےلئے روزہ توڑنا جائز ہے؟

تاریخ شائع کریں : 2017-02-28 | مناظر : 1230
- Aa +

جس شخص کا کام مشکل ہو اور اس کےلئے روزہ رکھنا بھی مشکل تو کیا اس کےلئے روزہ توڑنا جائز ہے؟

هل يجوز الفطر لمن عمله شاق ويصعب عليه الصيام؟

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ تعالی کی توفیق سے جواب دیتے ہوے ہم عرض کرتے ہے کہ

اللہ نے اپنے کتاب میں شریعت،اوامر،نواہی اوراحکام کےمتعلق ایک قاعدہ کلیہ ذکرکیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتےہیں (پس ڈرواللہ سے جتنی تم استطاعت رکھتے ہو) (التغابن:۱۶) اوریہی وہ چیز ہے جس پرمکلف بنانے کا انحصارہے (نہیں بوجھ ڈالتا اللہ کسی نفس پرمگراس کی استطاعت کےبقدر) (البقرُۃ:۲۸۶)، (نہیں بوجھ ڈالتا کسی نفس پر مگر وہ جودیا ہے اسکو) (الطلاق:۷)اوراس میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں اوریہی وجہ ہے کہ اللہ نے استطاعت کو خاص طورپر روزے میں اثر کرنے والا بنایا ، پس اللہ نے فرمایا (اوران لوگوں پر جن میں طاقت ہو فدیہ ہےایک مسکین کاکھانا) (البقرۃ:۱۸۴) پس طاقت رکھنےوالو کا واضح نام لیا اوراس سے معلوم ہوتا ہے کہ طاقت نہ رکھنےوالوں کے لیے بھی ایک خاص حکم ہے۔

اورمشکل کام کرنے کا جو مسئلہ ہے تو یہ ایک نسبتی مسئلہ ہے اور کوئی ایسی جامع مشترک وجہ موجود نہیں ہے جس سے یہ بتانا ممکن ہو کہ یہ کام مشکل ہے، کیونکہ ایک کام جوکسی ایک کےلئے مشکل ہوممکن ہے وہی کام دوسرے کےلئے آسان ہو۔ بعض لوگوں کاکام سورج تلے ہوتاہے اوربعض لوگ لوہے کے کارخانوں میں کام کرتے ہیں اوربعض لوگ چولہوں {تیز آگ والی بھٹی} کے قریب کام کرتے ہیں۔ یہ سارے ممکن ہے لیکن یہ آتے ہیں ایک نسبتی معاملہ کے تحت ۔ جس کوعادت ہوکسی چیزکی وہ اس آدمی کی طرح نہیں ہوسکتا جس کی اسی کام سے مانوسیت نہ ہواورنہ اس کاعادی ہو لہذا یہ مشقت والا مسئلہ نسبتی معاملہ ہے ۔ پس عمومی جواب دینے میں بعض اوقات غلطی کی طرف جانے کا خطرہ ہوتاہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ اصل تویہ ہے کہ اللہ نے روزے تمام مسلمانوں پر فرض کئےہیں (اے ایمان والوں فرض کیاگیا ہےتم پرروزہ جیساکہ فرض کیا گیاتھا تم سے پہلی امتوں پر روزہ)(البقرۃ:۱۸۳) اوراللہ نے فرمایا (پس جوحاضرہوتم میں سے رمضان کےمہینے کوتواس کوچاہیئے کہ روزہ رکھے) ( البقرۃ:۱۸۵) اوریہ تمام اہل ایمان کو خطاب ہے اوراللہ نےعذر والوں کوبھی فرمایا ؟(پس جوتم میں سے مریض ہو یا سفرمیں ہو تواس پرگنتی  کے روزے ہے دوسروں دنوں میں) (البقرۃ :۱۸۴) تو یہ آیتیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عذر والے ان افراد میں سے ہیں جن کواللہ تعالیٰ نے روزہ نہ رکھنے کی رخصت دی ہے لہذا جس کاعمل مشکل ہو اور عام عادت سے ہٹ کر مشقت والا  ہو اورایسی مشقت ہو کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کونقصان پہنچنے یاہلاکت کا اندیشہ ہواوراس کےلئے یہ بات مشکل ہو کہ وہ یہ کام چھوڑے ، یا اپنے کام کی ترتیب روزوں کے موافق بنادے تواس وقت اس کےلئے ان شرائط کےساتھ جوذکرکی گئی ہے روزہ توڑنا جائزہے ۔ اور فقہاءؒ نے خاص طورپر حنابلہؒ نے یہ بات ذکرکی ہے کہ جس کا کام مشقت والا ہو اور اسے چھوڑنا مشکل ہواورروزہ اس کونقصان دیتا ہوتواس کےلئےروزہ توڑنا جائزہے ۔ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ واجب بھی بقیہ واجبات سے جدا نہیں ہے اس اعتبار سے کہ واجبات میں طاقت رکھنے کی رعایت رکھنا ضروری ہے۔ اگر اس کے لئے روزہ توڑنا جائز ہے تواس وقت اللہ کایہ فرمان ہے (اورجومریض ہویاسفرمیں ہوتواس پر گنتی کے روزے ہےدوسرے دنوں میں) (البقرۃ:۱۸۵) تواس میں کوئی شک نہیں کہ اس پر قضاء واجب ہے، لیکن ایسے وقت میں قضاء کرے گا جب وہ طاقت رکھتا ہو جیسے کہ سردی کےاوقات میں یاچھوٹے دنوں میں۔ لیکن یہاں ایک بات ضروری ہے کہ کبھی روزے توڑنے کی ضرورت محض گمان سے ہوتی ہےاورکبھی یقینی ہوتی ہے اورکبھی وہمی ہوتی ہے۔ لہذا مسلمان کےلئے مناسب نہیں کہ رات ہی سے افطار کرے بلکہ مناسب یہ ہے کہ رات سے تو روزہ رکھے جیسا کہ عام مسلمان کرتے ہیں ،اور جس طرح عام مسلمانوں کی حالت ہوتی ہے۔ پھر اگر اس کے بعد اس پر وہ مشقت اورتھکاوٹ اورپشیمانی پیش آجائے تو ایسی حالت میں اللہ انسان کی استطاعت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا ،پس جتنی تمہاری وسعت میں ہو اتنی تقویٰ اختیارکرو۔ اوراس مسئلہ کے متعلق  شیخ عبدالحمیدبن حمیدؒ اورشیخ بن بازؒ کا ایک فتویٰ بھی جاری ہوا ہے  بالخصوص ان لوگوں کےبارے میں جوکہ مشکل کام کرتے ہیں کہ وہ اس حال میں صبح کرے کہ وہ روزہ سے ہوں پھر جب روزہ رکھنا ان کےلئے مشکل ہوجائے تواس وقت ان کےلئے جائزہے کہ روزہ کھولے۔ اگر ان میں وہ مذکورہ ساری چیزیں پورے طور پر پائی جائے اور وہ یہ کہ ایسی مشقت میں ہوجو عادت سے زیادہ مشقت ہو یا پھر ہلاکت کاخدشہ ہو یا ان کو ایسا نقصان جوعام عادت سے ہٹ کرہو لاحق ہوتا ہو ۔ تواللہ کے اس عام ارشاد کے مطابق ان کو روزہ افطار کرنے کی جازت ہوگی (پس تقویٰ اختیار کرو جتنی کہ تمہارے بس میں ہو)(التغابن:۱۶) اور اللہ کا یہ فرمان بھی اس بات پردلالت کرتی ہے (جوہوتم میں مریض یاسفرمیں ہوتواس پرگنتی کے روزے ہے دوسرے دنوں میں) (البقرۃ:۱۸۵)۔

لیکن یہ مناسب نہیں کہ عمومی طورپر یہ کہا جائے کہ ہروہ بندہ جس کا کام مشکل ہوتواس پرروزہ نہیں کیونکہ اس طرح سے ایک قسم کا وہم اورغلط فہمی لگتی ہے ۔ جو بہت سے ایسے لوگوں کو ابھارتی  ہے جوسستی دکھاتے ہیں ان  روزے کے معاملےمیں اس وجہ سے کہ ان کا کام مشکل ہےا ور یا اس وجہ سے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام مشقت والا ہے حالانکہ وہ اس بات کی طاقت رکھتے ہیں کہ وہ اپنے کاموں کو اس طرح سے ترتیب دے کہ دینی اوردنیاوی مصلحت دونوں کو جمع کریں گے۔

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں