فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / ایک عورت نے مغرب سے پانچ منٹ پہلے روزہ افطار کیا

ایک عورت نے مغرب سے پانچ منٹ پہلے روزہ افطار کیا

تاریخ شائع کریں : 2017-02-28 | مناظر : 1191
- Aa +

ایک عورت  نے مغرب سے پانچ منٹ پہلے روزہ افطار کیا اب اس کا کیا حکم ہے؟

أفطرت قبل المغرب بخمس دقائق

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ تعالی کی توفیق سے جواب دیتے ہوے ہم عرض کرتے ہے کہ

 جب کوئی عورت اس گمان سے روزہ کھولے کہ سورج غروب ہوچکا ہے حآلانکہ ابھی غروب نہ ہوا ہو، تواس کا روزہ صحیح ہے کیونکہ اس کا روزہ کھولنا حالت کے نہ جاننے کی وجہ سے ہے،نہ کہ حکم نہ جاننے کی وجہ سے ۔ کیونکہ وہ جانتی ہےکہ رمضان میں دن کے وقت کھانا جائز نہیں لیکن وہ اس سے جاہل ہے کہ کیا دن کا وقت باقی ہے یانہیں ؟ پس اس نے افطار کیا ہے اس بنیاد پر کہ یہ رات ہے۔ تو لہذا اس کاروزہ صحیح ہے ۔ اوراس طرح نبیﷺ کے زمانے میں بھی ہوا تھا جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کی حدیث میں ہے ، فرماتی ہے: (ہم نے نبیﷺ کے دور میں ابرآلود دن میں روزہ کھولا پھر سورج طلوع ہوا )۔

 پس انہوں نے اپنے غالب گمان کے مطابق روزہ افطار کیا اور جب بادل ہٹے تو پتہ چلا کہ ابھی تک دن ہے اور ان کے اوپر واجب تھا کہ امساک کرے، اور اسماءؓ نے یہ آگے ذکرنہیں کیا کہ انہوں نے قضاء کی یا نہیں ۔

 اور معمر نے ھشام سے پوچھا جو اس روایت کا راوی ہے : کہ قضاء ضروری ہے ؟ اس کی رائے یہ تھی کہ قضاء ضروری ہے ۔ لیکن یہ  حدیث ظاہر کرتی ہے کہ اس بندے پر قضاء ضروری نہیں  ہے جو اس گمان کی وجہ سے روزہ کھولے کہ سورج غروب ہوچکا ہے اور نبی کریمﷺ فرما رہے ہیں کہ (جب رات یہاں سے آئے اوردن وہاں سے جائے اورسورج غروب ہوجائے تو روزہ دار کا روزہ کھل  گیا )۔ تواگر اس نے یہ کام  اس وجہ سے کیا کہ سورج غروب ہوچکا ہے تواس پر کوئی حرج نہیں ہے ان شاءاللہ۔ روزہ ان کا صحیح ہےاور اس طرح کا مسئلہ بار بار ہوتا ہے۔  لیکن اصل یہ ہے کہ اذان دینے والوں کومتنبہ کیا جائے کہ جن کی اذانوں سے لوگ روزہ افطار کرتے ہیں کہ وہ صحیح وقت تلاش کرے اور اس معاملے میں سستی نہ کرے جوکہ لوگوں کو کوتاہی کی طرف لے جاسکتی ہے یا پھر ان کو اس جیسی مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ اوربعض  اوقات وہ شہر جوقریب ہے آپس میں ، جیسے مکہ، جدہ اور طائف ان میں اس طرح کے مشکلات آتی ہے مثال کے طور پر جدہ کے بعض لوگ مکہ کی اذان پر افطار کرتے ہیں اور ان کو جگہ کی وجہ سے اس طرح کا اشتباہ والتباس ہوتا ہے ۔

تو یہاں میں کہتا ہوں کہ مناسب یہ ہے کہ سوچ بچار کرے اور یقین کرلیا کرے۔ مثلا طائف کے بعض لوگ مدینہ والوں کی اذان پر افطار کرتے ہیں۔ اورجدہ کے لوگ  بھی مدینہ والوں کی اذان پر افطار کرتے ہیں ، تو تھوڑا سا اشتباہ پڑجاتا ہے ، لہذا جب بات اس طرح ہوتوپھر کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ لیکن پھر بھی مناسب یہ ہے کہ افطار شروع کرنے سے پہلےخوب یقین اور اطمینان کرلے ، خاص کر جب اشتباہ کا خطرہ ہو کیونکہ دن کا باقی رہنا اصل ہے: یعنی جب شک ہوکہ سورج  غائب ہوچکا ہے یا نہیں ؟ اذان دی گئی ہے یا نہیں ؟ تواصل یہ  ہے کہ اذان نہیں ہوئی کیونکہ اصول یہ ہے کہ ہر چیز کو جس طرح کہ وہ پہلے تھی اسی طرح چھوڑنا چاہیئے۔ پس جب غالب گمان ہوکہ اذان دے دی گئی ہے اورابھی تک معلوم نہ ہوا اور بعد میں معلوم ہوگیا کہ اذان نہیں ہوئی تھی۔ توضروری ہے کہ روزے کی حالت میں رہے۔ اوراس پر اس روزے کی قضاء نہیں ۔

اور اصل بات یہ ہے کہ شک کی حالت میں تفریط – لاپرواہی – ہوتی ہے  لیکن جب غالب گمان والی حالت ہو تو لوگ بیٹھے ہوے اذان کا انتظار کررہے ہو ۔ اور کئی دفعہ اس طرح ہوتا ہے کہ وہ اس حالت میں (اللہ اکبر، بسم اللہ) سن لیتے ہیں اور یہ لوگوں کی ایک عام حالت ہے ۔ اور جب بعد میں یہ واضح ہو جائے کہ مؤذن دو،تین یا پانچ  منٹ پہلے  اذان دے چکا ہے ، تو اس وقت ان پر کوئی حرج ںہیں ہے اور نہ ان کی طرف سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے، کیونکہ انہوں نے تو اصل خبر دینے والے کی خبرکی صحت  پر اعتماد کیا ہے کہ سورج غروب ہوچکا ہے۔

 
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں