×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / روزه اور رمضان / ایام تشریق کے روزے رمضان کےقضاء کے بدلے میں

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-02-28 08:42 PM | مناظر:2265
- Aa +

کیا یہ جائز ہےکہ رمضان کی قضاء روزوں کی جگہ ایام تشریق کے روزے رکھے ؟

صيام أيام التشريق عن قضاء رمضان

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

آپ کاروزہ صحیح ہےاورمقبول بھی ہے۔ اورآئندہ قضاء روزے ایام تشریق میں نہ رکھو ، لیکن جو گزر گئے تو وہ جائز اورمقبول ہے اوراس پردلیل وہ حدیث ہے جوصحیح میں ہے:(نبی ﷺ نے رخصت نہیں دی ایام تشریق کے روزوں میں سوائے اس آدمی کے لئے جس کو ہدی میسر نہ آئے) جیسا کہ عائشہؓ اورابن عمرؓ کی حدیث میں ہے۔

ایام تشریق - جوذوالحجہ کےمہینے کے گیارواں ،بارہواں اورتیرواں دن ہے- میں روزہ نہ رکھا جائے، سوائے اس شخص کہ جو ھدی کا جانورنہ پائے جو حج تمتع اورحج قران میں ذبح کیے جاتے ہیں۔ اور جس پر روزوں کی قضاء ہو یا نفل رکھنا چاہتا ہو یا اس پرنذر کا روزہ واجب ہو تو علماء کے دو اقوال میں صحیح قول کےمطابق یہ اشخاص ان دنوں میں روزہ نہ رکھے لیکن وہ روزوے جو پیچے رکھ چکے ہِیں تو اس میں کوئی حرج نہیں اورجائزہے۔ انشاءاللہ۔


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں