فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / جانوروں کا سا لباس پہن کر ان جیسی صورت اپنانا

جانوروں کا سا لباس پہن کر ان جیسی صورت اپنانا

تاریخ شائع کریں : 2017-03-01 | مناظر : 1214
- Aa +

محترم جناب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ بعض ایسے لباس ملتے ہیں جو حیوانات اور پرندوں کی شکل کے ہوتے ہیں ، ان کے پہننے کا کیا حکم ہے؟ اور یہ بچوں کوہنسانے اور دل لگی کرنے کے لئے مختلف محفلوں اور پروگراموں میں پہنے جاتے ہیں؟

التنكر بألبسة على هيئة حيوانات

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاتہ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

ایسے لباس پہننے میں اشکال یہ ہے کہ ان میں انسان کی اس حیوان سے مشابہت ہوتی ہے جیسا وہ لباس پہن رہا ہے اور حیوانات سے مشابہت قرآن و سنت میں مذمت ہی کے مقام پر آئی ہے چاہے وہ عبادت کے بارے میں ہو یا دیگر احوال اور افعال کے بارے میں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اے رسول! ان کو اس شخص کا واقعہ پڑھ کر سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطاء فرمائیں ، مگر وہ ان کو بالکل ہی چھوڑ نکلا پھر شیطان اس کے پیچھے لگا جس کا نتیجہ یہ ہو اکہ وہ گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا ، اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کی بدولت اسے سربلند کرتے مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا ، اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا رہا اس لئے اس کی مثال اس کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تب بھی وہ زبان لٹکا کر ہانپے اور اگر اسے چھوڑدو تب بھی زبان لٹکا کر ہانپے گا ، یہ ہے مثال ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا لہٰذا  [الأعراف 175_176]تاکہ یہ کچھ سوچیں"  تم یہ واقعات ان کو سناتے رہو

اوراللہ تعالیٰ کا ایک اور فرمان ہے: ’’جن لوگوں پر تورات کا بوجھ  ڈالا گیا ان لوگوں نے اس کا بوجھ نہیں اٹھایا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں لادے ہوئے ہو بہت بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا" {الجمعہ: ۵}

اوربخاری شریف کی حدیث نمبر(۲۵۸۹)اور مسلم شریف کی حدیث نمبر(۶۶۲۲) کی روایت ہے ابن عباسؓ کے طریق سے :’’ اپنے تحفے کو واپس مانگنے والا اس کتے کی مانند ہے جو قے کرے پھر اپنے ہی قے میں منہ مارے ‘‘۔ بخاری کی ایک اور روایت ہے (۶۹۷۵) آپنے ارشاد فرمایا : ’’ہمارے لئے کوئی بری مثال نہیں ‘‘۔ صحیح مسلم {۴۹۸} میں ابوالحوزاء عن عائشہؓ کے طریق سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ: ’’آدمی کو منع کیا گیا ہے کہ آدمی اپنے بازو چیر پھاڑکرنے والے جانور کی طرح پھیلائے‘‘ یعنی نماز کے دوران ۔

 یہ نصوص اور ایسی دیگر روایا ت وغیرہ اس بات کی خبر دے رہی ہیں کہ حیوانات کی مشابہت اختیار کرنے کی عموما مذمت کی گئی ہے لہٰذا کم از کم ان جیسے لباسوں کے بارے میں کہا جائے گا کہ یہ مکروہ ہیں۔

 اہلِ علم میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے حیوان کی مشابہت اختیار کرنے کو مطلقاََ حرام قراردیا ہے کیونکہ اس کی مذمت کے بارے میں بہت سی نصوص وارد ہوئی ہیں ۔

باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں۔

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

2 /10 /1425هـ

 

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں