فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / فوٹو گرافک تصاویر میں مختلف سافٹ وئیرز کے ذریعے ردو بدل کرنا

فوٹو گرافک تصاویر میں مختلف سافٹ وئیرز کے ذریعے ردو بدل کرنا

تاریخ شائع کریں : 2017-03-01 | مناظر : 1249
- Aa +

محترم جناب!  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔

آپ کی جناب سے یہ عرض ہے کہ کسی شخص کی تصویر میں کچھ ردّوبدل کرنے کا کیا حکم ہے ؟ مثلاََ ناک چھوٹا کر دینا یا پلکیں وغیرہ غائب کردینا وغیرہ یا پھر ہونٹ چھوٹے کردینا؟

التعديل في الصور الفوتوغرافية بوسائل التقنية

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاتہ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

جواب ملاحظہ فرمائیں

 ہونٹ یا ناک کو چھوٹا بڑا کرکے بنانے والے کی بناوٹ میں دخل اندازی کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بناوٹ میں شریک ہونے کے مترادف ہے ۔ اور وہ اس حدیث کے تحت داخل ہے جو بخاری شریف (۵۹۵۴) اور مسلم شریف (۲۱۰۷) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولنے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن سب سے شدید عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی تخلیق میں مشارکت کر تاہے‘‘ اور ان سے مقصود تصویر بنانے والے ہیں جیسا کہ بخاری کی ایک اور روایت میں ہے : (۶۹۰۱) ’’قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب دئیے جانے والے وہ لوگ ہوں گے جو یہ تصویریں بناتے ہیں ‘‘۔

اور یہاں مشارکت سے مقصود اللہ تعالیٰ سے مشابہت اختیار کرنا ہے ، یعنی تخلیق کرنے میں مشابہت ، جیسا کہ مسلم (۲۱۰۷) کی روایت میں آیا ہے کہ :’’روزِ قیامت سب سے شدید عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی تخلیق میں تشبیہ دیتے ہیں ‘‘۔ اور خلقت کی صورت بنانا اور اسے شکل عطا کرنا اللہ تعالیٰ کی خاصیت میں سے ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :’’ وہی ہے جو ماں کے پیٹ میں تمہیں صورت عطاکرتا ہے جیسے وہ چاہتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ عزت و حکمت کا مالک ہے‘‘ {العمران: ۶}

لہٰذا تصویر میں ردّ وبدل کرنا گویا اللہ تعالیٰ سے اس کی مخصوص صفت میں نزاع کرنا ہے ، پس ایمان والے پر یہ واجب ہے کہ اس سے بچا رہے ۔

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

9/ 11 /1428هـ

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں