فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / قرآن وغیرہ کی تلاوت میں مشغول شخص کو سلام کرنا

قرآن وغیرہ کی تلاوت میں مشغول شخص کو سلام کرنا

تاریخ شائع کریں : 2017-03-02 | مناظر : 1719
- Aa +

کیا میں قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول شخص کو سلام کر سکتا ہوں جبکہ میرے اس طرح سلام کرنے سے اس کی تلاوت میں خلل بھی واقع ہو رہا ہو ؟

السلام على مشتغِل بقراءة قرآن ونحوه

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ

اصل تو آداب و تسلیمات میں جواب کا لوٹانا ہی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور جب تمہیں کوئی شخص سلام کرے تو تم اسے اس سے بہتر طریقے پر سلام کرو یا (کم از کم) انہی الفاظ میں اس کا جواب دے دو‘‘ ۔ (النساء: ۸۶) ۔ لیکن حدیثِ مبارکہ میں بعض احوال میں سلام کا جواب نہ دینے کے بارے میں بھی آیا ہے جیسا کہ اگر کوئی ایسا عارض پیش آئے جس کی وجہ سے سلام کا جواب نہ دیا جا سکے، اس میں سے بخاری شریف (۱۲۱۶) اور مسلم شریف (۵۳۸) میں حضرت علقمہؓ کے طریق سے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ  سے مروی ہے کہ؛ ’’میں حالتِ نماز میں اللہ کے رسولکو سلام کرتا تھا تو اللہ کے رسولمجھے سلام کا جواب دیتے تھے، لیکن جب حبشہ کے سفر سے ہماری واپسی ہوئی اور میں نے اللہ کے رسولکو سلام کیا تو انہوں نے جواب نہیں دیا (پھر جب سلام پھیرا تو ارشاد فرمایا) کہ نماز میں مشغولیت ہوتی ہے‘‘۔

جمہورعلماء نے اس سے استدلال کیا ہے کہ انسان جب نماز یا تلاوت میں مشغول ہو تو اس سے سلام کا جواب دینا ساقط ہو جاتا ہے۔

لہٰذا نماز اور باقی اعمال کے درمیان یہ برابری زیرِ غور ہے، اس لئے کہ نماز میں اللہ تعالیٰ نے کلام کرنے سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اور اللہ کے سامنے با ادب و فرمانبردار بن کر کھڑا ہوا کرو‘‘ ۔ (البقرۃ: ۲۳۸)۔ اور اسی طرح بخاری شریف (۱۲۰۰) اور مسلم شریف (۵۳۹) میں ابو عمر و شیبانی سے مروی ہے کہ مجھ سے زید بن ارقمؓ نے فرمایا کہ: ’’ہم عہدِ رسول  میں نماز میں کلام کیا کرتے تھے، یعنی ہم میں سے ایک اپنے بھائی سے ضرورت کی بات کیا کرتا تھا یہاں تک کہ یہ آیتِ کریمہ نازل ہوگئی: [تم نمازوں کی پابندی کرو، خاص کر نماز وسطیٰ (نمازِ عصر) کی اور اللہ کے سامنے با ادب فرمانبردار بن کر کھڑے ہوا کرو]۔ (البقرۃ: ۲۳۸) ۔اس کے بعد خاموش رہنے کا حکم دیا گیا‘‘ ۔ جیسا کہ اللہ کے رسولکو کسی نے حالتِ نماز میں سلام کیا تو آپنے اشارہ سے جواب دیا، مسلم شریف  (۵۴۰) میں حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ: ’’اللہ کے رسولنے مجھے کسی ضرورت کے تحت بھیجا پھر (جب میں واپس لوٹا) تو اللہ کے رسولچل رہے تھے اور ایک اور روایت میں ہے کہ آپنماز پڑھ رہے رتھے، جب میں نے ان کو سلام کیا تو مجھے اشارہ کیا جب فارغ ہوئے تو مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا: ’’آپ نے ابھی تھوڑی دیر پہلے مجھے سلام کیا جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا‘‘  اور وہ اس وقت مشرق کی سمت متوجہ تھے‘‘۔ لہٰذا بالکلیہ مسلمان کا حق ساقط نہیں ہوا، اس لئے کہ آپنے نمازی کو سلام کرنے سے منع نہیں فرمایا بلکہ لفظی طور پر جواب دینے سے معذرت کی، یا یہ کہ وہ لفظی طور پر جواب نہیں دے پایا تو اشارہ سے جواب دیا، تو اس طرح اگر سلام کرنے سے اسکی نماز میں خلل واقع نہ ہوتا ہو تو پھر لفظی طور پر بھی جواب دے سکتا ہے کیونکہ یہی وہ اصل ہے جس کی محافظت ضروری ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ بھی ہے: ’’اور جب تمہیں کوئی شخص سلام کرے تو تم اس سے بہتر طریقے پر سلام کرو یا (کم از کم) انہی الفاظ میں اس کا جواب دے دو‘‘۔ (النساء: ۸۶)۔  اسی طرح اور بھی قرآنی آیات اس پر دال ہیں کہ یا تو اس سے بہتر طریقے پر سلام کیا جائے و رنہ انہی الفاظ کے ساتھ جواب دے دیا جائے۔

اور باقی اگر قرآن کی تلاوت کرنے والے کو اگر سلام کیا جائے تو اس کے بارے میں مسند احمد (۱۶۹۱۰) میں حضرت عقبہ بن عامرؓ سے مروی ہے کہ: ہم ایک مرتبہ مسجد نبوی میں بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کر رہے تھے، اللہ کے رسولداخل ہوئے تو ہمیں سلام کیا اور ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا: ’’اللہ کی کتاب کو سیکھو اور (حفظ کے ذریعہ) اسے جمع کر کے خوش الحانی سے پڑھو کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ قرآن (سینوں سے) اونٹ کارسی سے نکل کر بھاگ جانے سے بھی زیادہ جلدی نکل جاتا ہے، لہٰذا اس میں قرآن کی تلاوت کرنے والے کو سلام کرنے کا جواز ہے اور اور یہ اس پر بھی دال ہے کہ قرآن کی تلاوت کرنے والا بھی سلام کا جواب دے سکتا ہے ۔

باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں