فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / اجنبیہ عورت سے مصافحہ کرنے کا حکم

اجنبیہ عورت سے مصافحہ کرنے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-03-02 | مناظر : 1859
FA
- Aa +

اگر اجنبیہ عورت دو شیزہ ہو یا عمر رسیدہ ہو تو اس سے مصافحہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟

حكم مصافحة المرأة الأجنبية

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

بتوفیق الہٰی آپ کے سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ

متقدمین و متجد دین میں سے اہلِ علم کی ایک بڑی جماعت کا یہ قول ہے کہ کسی مرد کے لئے اجنبیہ عورت سے مصافحہ کرنا جائز نہیں ہے، اور اپنے اس قول کی دلیل میں انہوں نے بیشتر روایات سے استدلال کیا ہے جن میں سے ایک روایت کو امام بخاری اور امام مسلم نے زہری اور عروہ بن زبیر کے طریق سے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے کہ : ’’آپکے دستِ مبارک نے کبھی بھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا، اور جب ان کو بیعت فرماتے تو کلام سے فرماتے‘‘۔ اسی طرح ایک اور روایت بھی ان حضرات کی دلیل ہے جس کو امام احمد اور امام نسائی نے نقل کی ہے اور ابن کثیر نے سفیان بن عبینہ اور محمد بن منکدرکے طریق سے اس کی سند صحیح قرار دی ہے کہ حضرت امیمہ بنت رقیقہ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسولنے ارشاد فرمایا: ’’میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا اور میرا ایک عورت سے بات کرنا ایسا ہے جیسا سو عورتوں سے بات کرنا‘‘۔ لہٰذا اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ بیعت کے دوارن اللہ کے رسولعورتوں سے مصافحہ نہیں فرماتے تھے جبکہ دورانِ بیعت مصافحہ کرنا آپکی مستقل عادت تھی۔ حرمت پر طرحِ تثریب میں عراقی فرماتے ہیں :کہ ظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ اس کی حرمت کی وجہ سے اللہ کے رسولاس سے منع ہوتے تھے لہٰذا ان کی خصائص میں سے اس کا جواز نہیں رہا۔

 اور اس حرمت کو وہ شدید و عید مستحکم کرتی ہے جس میں آیا ہے کہ مرد کے لئے اجنبی عورت کا چھونا جائز نہیں ہے، اس کا استخراج طبرانی نے  ’’کبیر‘‘ میں معقل بن یسار بن کے طریق سے کیا ہے کہ اللہ کے رسولنے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سُوئی چھبوئی جائے تو یہ اس کے لئے اس بات سے بہتر ہے کہ کسی غیر محرم عورت کو چھوئے‘‘۔ منذری نے اس حدیث کی سند کے بارے میں کہا ہے کہ طبرانی کے رجال صحیح کے ثقات رجال ہیں۔

باقی احناف اور حنابلہ فقہاء نے ایسی بوڑھی عورت جس کے ساتھ مصافحہ کرنے سے شہوت نہ آتی ہو استثناء کیا ہے، اس لئے کہ اس میں منع کی علت کی نفی ہے اور وہ علت فتنہ میں پڑنے کا خدشہ ہے، جبکہ جمہور نے مطقاً ممانعت کی ہے، اس لئے کہ ممانعت کی احادیث عام ہیں اور یہی قول راجح ہے۔

باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے

متعلقہ موضوعات

آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں