فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / موبائل میں میسج کے ذریعہ بھیجے جانے والے انعامی پرائذ بانڈز کا حکم

موبائل میں میسج کے ذریعہ بھیجے جانے والے انعامی پرائذ بانڈز کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-03-02 | مناظر : 1443
- Aa +

موبائل میں میسج کے ذریعہ بھیجے جانے والے انعامی پرائذ بانڈز کا کیا حکم ہے ؟

المسابقات التي ترسل رسالة إلى الجوّال

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

بتوفیق الٰہی آپ کے سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ

اس قسم کے مقابلے (آجکل) جا بجا پھیلے ہوئے ہیں، اور ان کی کئی صورتیں ہیں جو اپنی تمام ترصورتوں کے ساتھ حرام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے تحت داخل ہے : ’’بے شک شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوے کے تیریہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں لہٰذا ان سے بچو تا کہ تمہیں فلاح حاصل ہو‘‘۔ (المائدۃ: ۹۰

ٓاس لئے اہلِ ایمان والے پر واجب ہے کہ وہ ایسے باطل اور بے بنیاد باتوں کے پیچھے نہ چلیں جس کو بعض ادارے صرف اپنے خریداروں کو بڑھانے اور اپنے پروڈکشن کو فروغ دینے کے لئے بطورِ پیشہ استعمال کرتے ہیں، اس لئے مباح راستوں پر انحصار کرنا چاہئے، اور میں تمام اسلامی ممالک میں سب ذمہ دار شعبوں کو اس طرف بلاتا ہوں کہ حقیقی طور پر صارفِ اشیاء کے بچاؤ میں ان کا ایک بڑا رول ہونا چاہئے، اس لئے کہ یہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی وہ قسم ہے جس کو بعض تجار اپنے پروڈکشن کو فروغ دینے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

بہر کیف ! اس طرح کے مقابلے حرام ہوتے ہیں، اور ان میں شرکت کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے اور اسی طرح بعض تجارتی اداروں کا ان کو قائم کرنا بھی ناجائز ہے، اور اس میں دو پہلؤوں کی طرف خطاب ہے:۔

ایک تو تجارتی اداروں کی طرف کہ وہ ان حرام وسائل سے گریز کریں اور دوسرا یہ کہ وہ اس قسم کے پرپگینڈوں کی طرف نہ چلیں۔

اور اگر کسی کو یہ صورتِ حال پیش بھی آئے تو میری رائے یہ ہے کہ اس نے جو انعام لیا ہے اس کو صدقہ کر دے۔

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں