فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / شطرنج کے ذریعے انتخاب کرنا

شطرنج کے ذریعے انتخاب کرنا

تاریخ شائع کریں : 2017-03-02 | مناظر : 1117
FA
- Aa +

کیا شطرنج کے ذریعے انتخاب کرنا جائز ہے؟ جیسا کہ میں نے دو افراد میں سے کسی ایک کو قرعہ کے ذریعے ساتھ رہنے کیلئے منتخب کرناہو تو کیا شطرنج کے ذریعے ممکن ہے؟ مثلا ان دونوں میں سے ایک دانہ پھینکے اور جس کے زیادہ نمبر ہوں وہ ہی میرے ساتھ رہے گا۔ اور کیا یہ کمپیوٹر سافٹ وئیر والے شطرنج کا بھی یہی معروف حکم ہے؟ مطلب یہ کہ کچھ ایسے سافٹ ویئر ہیں جو شطرنج کی طرح دکھتے ہیں ،ماؤس سے کلک کر کے کوئی بھی نمبر آ جاتا ہے، تو کیا یہ بھی حرام شطرنج میں آئے گا؟

حكم الاقتراع بالنرد

حامداََومصلیاََ۔۔۔

امابعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

جواب نمبر۱

بظاہر یہ حکم ہی ہے کہ شطرنج کھیلنا جائز نہیں؛۔کیونکہ اسے اپنے پاس رکھنا یا خریدنا جائز نہیں، بلکہ اسے ضائع کرنا واجب ہے، کیونکہ اسے اپنے پاس رکھنا اسے استعمال کرنے اور کھیلنے کا وسیلہ ہے۔ آپکا فرمان ہے جو کہ مسلم میں(۲۲۶۰) بریدۃؓ کی حدیث سے مروی ہے(( جس نے شطرنج کھیلی تو گویا اس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈبو دیا))۔

اور سنن ابی داود(۴۹۳۸) اور دیگر میں ابوموسیؓ کے طریق سے مروی ہے، فرمایا: ((جس نے شطرنج کھیلا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی))۔  ابن عمر ؓ کے بارے میں بھی صحیح طور پر وارد ہوا ہے کہ اگر وہ کسی کوشطرنج کھیلتے دیکھتے تو اسے مارتے اور شطرنج توڑ دیتے، اور قرعہ تو کسی اور طریقے سے بھی ڈالا جا سکتا ہے۔

جواب نمبر۲

دوسری بات یہ ہے کہ حرام شطرنج  میں کوئی فرق نہیں چاہے وہ لوگوں کے ساتھ کھیلی جائے یا سافٹ وئر  کے ذریعے، کیونکہ حرمت کی علت اللہ تعالی کے ذکر سے اور نماز سے غفلت ہے، اور حدیث دونوں صورتوں کو شامل ہے۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی

خالد المصلح

29/12/1424هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں