فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / فقہ المعاملات کا طریقہ تعلیم

فقہ المعاملات کا طریقہ تعلیم

تاریخ شائع کریں : 2017-03-02 | مناظر : 1306
- Aa +

فقہ المعاملات کی پڑھائی کیلئے آپ کس طریقہ تعلیم کو راجح سمجھتے ہیں، چاہے وہ اصولی اعتبار سے ہو یا دور حاضر کے معاملات کی تطبیق کے اعتبار سے؟ اور خاص طور پر طرز و منھج کے بارے میں راہنمائی درکار ہے جبکہ آجکل طرق و مناہج متعدد ہیں؟

دراسة فقه المعاملات

حامداََومصلیاََ۔۔۔

امابعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

ایک طالب علم کیلئے میری نصیحت تو یہ ہے کہ وہ معاملات اور ان کے مسائل کے باب میں اصول و ضوابط پر خاصی محنت کرے، اور یہ اس طرح سے ہو گا کہ قواعد کو سمجھنے کے بعد کتاب و سنت سے ان کے دلائل ضبط کرے اور اہل علم کے کلام میں سے عملی تطبیقات زیرنظر رکھے تاکہ اسے ان قواعد کو بعد کے فقہاء کے ذکر کردہ مسائل میں منطبق کرنے کا ملکہ و مہارت حاصل ہو جائے، وہ مسائل جنہیں فقہائے متقدمین نے ذکر نہیں کیا۔

اور اس کے ساتھ ساتھ معاملات کے باب میں ایک بہت فائدہ کی چیز یہ بھی ہے کہ کتاب و سنت سے نصوص کو ان کے معانی، غایات،حکم اور اسرار کے ساتھ سمجھے۔ کیونکہ اس کا اہتمام طالب علم کیلئے احکام کی معرفت اور نصوص سے ان کا استدلال کرنے کیلئے بہت سے دروازے کھول دیتا ہے اور اس کی حدود و آفاق میں وسعت پیدا کرتا ہے۔شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے درء التعارض مجلد ۷صفحہ ۳۴۲میں لکھا ہے:کتاب و سنت نے عام اسماء کے ساتھ تمام احکام کو بیان کر دیا ہے، لیکن ان میں اعیان کی تعیین کرنے کیلئے بڑی ہی دقیق فہم اور گہری نظر کی ضرورت ہے، تاکہ ہر معین کے نوع کو درج کیا جا سکے اور اس نوع کو دوسری نوع کے تحت جو کہ آپ واضح کر چکے ہیں۔۔

میں اپنے طالب علم بھائیوں کو اس بات پر منتبہ کرنا چاہتا ہوں کہ اپنا وقت اور ذہن ان مسائل کو سمجھنے اور تصور کرنے میں مت لگائیں جو کہ آج کے معاملات سے کوسوں دور ہیں، کیونکہ یہ محض وقت کا ضیاع اور ذہن کو تھکانا ہے، اور اکثر اس وجہ سے غفلت آ جاتی ہے اور قواعد و اصول چھوٹ جاتے ہیں۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی

خالد المصلح

08/04/1425هـ

 

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں