فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / مسافر کے لئے روزہ رکھنا جب اس کے لئے کوئی مشقت نہ ہو

مسافر کے لئے روزہ رکھنا جب اس کے لئے کوئی مشقت نہ ہو

تاریخ شائع کریں : 2017-03-19 | مناظر : 1559
- Aa +

موجودہ زمانہ میں مسافر کے لئے روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے جبکہ اس کے لئے کوئی مشقت نہیں ہوتی؟


صوم المسافر مع عدم وجود المشقة

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔
اما بعد۔۔۔
اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ
جو رخصتیں روزہ توڑ دینے کو جائز کردینی والی ہے اللہ نے ان  میں سے سفر کو بھی شامل فرمایا ہے جیسا کہ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے: (اگر تم سے کوئی شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی گنتی پوری کر لے)۔(البقرۃ: ۱۸۴)۔
یہ ان رخصتوں میں سے ہے جن کی رخصت اللہ نے اپنے بندوں کو دی ہےاوراس میں ان کے لئے گنجائش بھی دی ہے اوراس پر دلیل عمرو بن حمزہؓ کی حدیث ہے [انہوں نے نبیﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ میں بہت زیادہ سفر کرنے والا ہو اور اپنے میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، کیا میں اس میں روزہ رکھ لیا کروں؟ تو آپﷺ نے فرمایا: کہ یہ رخصت ہے بندوں کے لئے پس جو اس کو لے تو بہتر ہے اور جو اس کونہ لے تواس پر کوئی گناہ نہیں] یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ روزہ افطار کرنے کی رخصت ہے جیسا کہ آیت اورحدیث دونوں اس بات پر دلالت کرتی ہے ۔
اور وہ کون سا سفر ہے جوافطار کو جائز کرتا ہے؟ تو علماء فرماتے ہیں: وہ سفر جو قصر نماز کو جائز کر د ینے والا ہوتا ہے وہ روزہ کھولنے کو جائز کراتا ہے، تو وہ سفر  جو افطار کو جائز قرار دیتی ہو اس میں رجوع کرنا چاہیئے نماز میں قصر والے مسئلہ کی طرف۔ کیونکہ مسافر کے لئے یہ رخصت کی بنیاد  ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (اور جب تم زمین میں سفر کرو اور تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ کافر لوگ تمہں پریشان کریں گے،تو تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز میں قصر کرلو)(النساء:۱۰۱)۔
تواصل رخصت جس کا تعلق مسافر سے ہے وہ نماز میں قصر کرنا ہے اور روزے کو بھی اس حکم کے سا تھ ملایا گیا ہے تو جوچیز بھی  نماز میں قصر کو جائزکر دے گی وہی چیز روزہ دار کے لئے افطار کوجائز کروادے گی ۔
اور کیا یہ رخصت تمام  سفر کی صورتوں کو شامل ہے،خواہ اس میں روزہ دار کے لئے مشقت ہو یا نہ ہو؟ سفری اور مواصلاتی وسائل کی ترقی کی وجہ سے اسفار بغیر مشقت والی ہوگئی ہے،اور یہ معاملہ دراصل ایک اضافی معاملہ ہے کہ سفر جدھر کا بھی ہو اور وسیلہ جیسا بھی ہو جس کے سا تھ بندہ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک منتقل ہوتا ہو۔ تو پھر یہ  بھی یہ بندے کو اس صفت سے نہیں نکالتا جو آپ ﷺ نے بیان فرمایا: (سفرعذاب کا ٹکڑا ہے) لیکن اس میں فرق آتا رہتا ہے اور یہ مختلف ہوتا ہے،اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ والے سفر ایسا نہیں ہے جیسے اونٹ پر سفر ہوتا تھا اور نہ گاڑی کا سفر اونٹ کے سفر جیسا ہے وغیرہ وغیرہ،اور یہ مختلف وسائل ہیں جس کو مختلف اسفار میں لوگ استعمال کرتے ہیں ۔
لہذا وہ سفر جن میں روزے کا افطار جائز ہو جاتا ہے وہ سفر ہوتا ہے جس میں مشقت آنے کا گمان ہو جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ سفرکا وجود ہی افطار کو جائز قرار دیتا ہے اگرچہ اس میں مشقت نہ پائی  جاتی ہو کیونکہ جب حکم کا انحصار کسی ظنی چیز پر ہو تو اس کا ثبوت بغیر کسی قید کے  ہوتا ہے خواہ اس میں کوئی مشقت ہو یا نہ ہو۔ اس کی مثال نیند ہے کہ علماء اس کو وضو توٹنے والی چیزوں میں شمار کرتے ہے اور نیند میں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کواس بات کا یقین ہوچکا ہو کہ کوئی چیز حدث وغیرہ  پیش آئی ہے یا نہیں ۔ بلکہ جب بھی نیند میں حواس مکمل طور سے غائب ہو جائے تو اس وقت وضو واجب ہوتا ہے ۔اگرچہ اس کو اس بات کا یقین ہو کہ اس کو کوئی حد ث پیش نہیں آئی۔
بہرحال مقصود یہ ہے کہ سفر ان اسباب میں سے ہیں جو روزے کے افطا ر کو جائز قرار دیتی ہے لیکن یہ  مشقت کے ہونے میں منحصر نہیں ہے۔ بلکہ یہ رخصت ہے خواہ روزے میں مشقت ہو یا نہ ہو۔ جیسا کہ عمرو بن حمزۃ الاسلمیؓ  کی حدیث میں ہے انہوں نے فرمایا: [میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، کیا میں اس میں روزہ رکھ لیا کروں؟ تو آپﷺ نے فرمایا: کہ یہ رخصت ہے بندوں کے لئے پس جو اس کو لے تو بہتر ہے اور جو اس کونہ لے تواس پر کوئی گناہ نہیں]
اور یہ حدیث ہمیں ایک مسئلہ کی طرف لے جاتی ہے اور وہ یہ کہ مسافر کے لئے ان دونوں میں سے کیا افضل ہے،افطار یا روزہ؟ یہ ان مسائل میں  سے ہیں کہ جن میں علماء کا اختلاف ہے، بعض ان میں یہ کہتے ہیں کہ اس کو اختیار ہے اور بعض نے کہا ہیں کہ اگر روزہ رکھنے میں مشقت ہو تو نہ رکھنا افضل ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ ہر حالت میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے خواہ بدن مشقت محسوس کرے یا نہ کرے۔ یہ سارے اقوال ہیں۔ اوراس میں ہر قول کسی نہ کسی دلیل کی طرف منسوب ہے بلکہ اہل علم میں سے کچھ  اس بات کی طرف گئے ہیں کہ روزہ مسافر کے لئے مطلقا کھولنا واجب ہے، دلیل اس حدیث سے لی ہے جو صحیح میں حضرت جابرؓ کے حوالے سے آئی  ہے: کہ جو لوگ روزہ باقی رکھے ہوئے تھے اور نبی ﷺ اور صحابہؓ کا روزہ نہیں تھا تو آپ ﷺنے ان کو موصوف کیا اپنے اس قول سے: (یہ نافرمان ہے،یہ نافرمان ہے) اوراس طرح حدیث جابرؓ وابن عمرؓ میں ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: (کوئی نیکی نہیں ہے سفر میں روزہ رکھنا) یہ ساری احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ اس مسئلہ میں کئی نصوص ہونے کی وجہ سے آراء مختلف ہے تو کسی نے اس نص کو لیا اور کسی نے اس نص کو لیا۔
 اور سب سے زیادہ قریب اور ان سب کو جمع کرنے والا قول یہ ہے کہ افطار کرنے کی رخصت ہے،اورجہاں تک فضیلت کی بات ہے توفضیلت حالات کے مختلف ہونے سے مختلف ہوتی ہے، جس کے لئے روزہ  مشکل ہو تو اس کے لئے افطار افضل ہے نبیﷺ کےاس قول کی وجہ سے (نیکی میں سے نہیں ہے کہ سفر میں روزہ رکھا جائے) اورنبیﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے جو انسؓ کی حدیث میں (افطار کرنے والے اجر لے گئے ) اور نبیﷺ کے اس قول کی وجہ سے (کہ یہ نافرمان ہے ،نافرمان ہے)۔
جب انسان میں روزہ رکھنے کی قوت ہو اوراس پر مشکل نہ ہو اوراس کا روزے کو نہ چھوڑنا اللہ کی  رخصت سے بے رغبتی کی وجہ سے  نہ ہو بلکہ یہ اس وجہ سے ہو کہ اس کو وقت کی فضیلت مل جائے اور اس کا ذمہ جلدی بری ہوجائے اوراس وجہ  سے کہ یہ بھی لوگوں کے ساتھ  مہینے کے روزے رکھ لے اور روزے میں ان کے ساتھ  موافق ہوجائے،اوراس کے علاوہ  کچھ اوراسباب  کی وجہ سے کہ جو  لوگوں کے احوال مختلف ہونے کی وجہ سے مختلف ہوتے رہتے  ہیں، جب معاملہ اس طرح ہو تو روزہ رکھنا افضل ہے۔ اور یہ وہ بات ہے جس کی طرف جمہور علماء گئے ہیں اور اس کی سند وہ  حدیث ہے کہ آپﷺ نے سفر میں روزہ رکھا حدیث میں ہے: (نبی ﷺ اپنے صحابہؓ سمیت نکلے اور آپﷺ نے اور عبد اللہ بن رواحۃؓ نے سخت گرمی میں روزہ رکھا) یہاں تک کہ ایک صحابیؓ فرماتے ہیں: (ہمارے پاس ایسی کوئی چیز نہیں تھی کہ جس سے ہم سایہ لیتے سوائے ہمارے ہتھیلیوں کے اور ہم میں سب سے زیادہ وسیع سایہ کی اس کے پاس تھی جو چادر والا تھا) مطلب یہ ہے کہ وہ سخت گرمی میں تھے اوران کے پاس ایسی کوئی چیز نہ تھی جس سے وہ سخت گرمی سے بچتے۔ تو صحابہؓ نے افطار کیا اور ان میں سوائے نبیﷺ اور عبد اللہ بن رواحۃؓ کے کوئی روزہ دار نہ تھا۔
اورابوسعیدؓ اور انسؓ اورجابرؓ سب حضرات کی  حدیث میں ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ( کہ ہم  نبیﷺ کے ساتھ رمضا ن میں نکلے،کچھ ہم میں سے روزے سے تھے اور کچھ ہم میں سے بغیر روزے کے تھے تو روزہ رکھنے والوں نے  روزہ نہ رکھنے والوں پر کوئی تنقید نہ کی اور نہ افطار کرنے والوں نے روزہ رکھنے والوں میں کوئی عیب نکالا ) اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس مسئلۃ میں کافی گنجائش ہے اور انسان اس چیز کی طرف دیکھتا ہے جو زیادہ نفع والا ہو اور اس کے لئے آسانی ہو۔
اور وہ کون سا سفر ہے جوروزہ کھولنے کو جائز قرار دیتا ہو؟ کیا یہ صرف وہ سفر ہے جو چلنے کے دوران ہے اور یا پوری سفر کی مدت  تک وہ برقراررہتا ہے کہ جس میں  ادھر پہنچ جائے جس کا اس نے ارادہ کیا تھا؟
قصر اور فطر یہ دونوں سفر کی  رخصتیں ہیں اور یہ دونوں  مسافر کے لئے اپنے شہر سے نکلنے کے وقت سے لے کرلوٹنے کے وقت تک ثابت ہے ۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ سفر میں صرف چلنے کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ سفر وہ پوری مدت ہے جس کو مسافر طے کرتا ہے جب سے نکلا ہے واپس لوٹنے کے وقت تک ۔  مثلا  مسافر ریاض تک  کا سفر کرتا ہے اور وہاں ایک مدت تک قیام  کرے تواس کا وہاں ریاض میں اقامت کی مدت کے بقدر باقی رہنا  یہ سفر ہے ۔ اور اس سے ایک اور مسئلہ نکلتا ہے اور وہ  یہ کہ کی کیا وہاں کوئی ایسی مدت ہے جو سفر کے لئے مقرر ہو یا نہیں ہے؟ اگر اس کا ہمیں اندازہ ہوجائے کہ یہ  دو دن تک قیام کرے گا یا تین دن تک ۔ یا اس جیسی کسی  مدت تک تو یہ وہاں سے لوٹنے تک مسافر ہی  شمار ہو گا ۔

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں