فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / روزہ دار کے لئے خوشبو سونگھنا

روزہ دار کے لئے خوشبو سونگھنا

تاریخ شائع کریں : 2017-03-19 | مناظر : 1818
- Aa +

روزہ دارکے لئے خوشبو سونگھنے کا کیا حکم ہے؟

شم الطیب للصائم

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

پاک اور اچھی خوشبوؤں کا سونگھنا روزہ دار کے لئے روزہ توڑ دینے والی چیزوں میں سے نہیں ہے اور نہ اس سے اجر کم ہوتا ہے،اور اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ ان چیزوں میں سے ہے کہ اللہ نے اس کے اور اس کے توڑ دینے والی چیزوں کے درمیان ایک حد بیان کر دی ہے اللہ کا ارشاد ہے: (چناچہ اب تم ان سے صحبت کر لیا کرو،اور جو کچھ اللہ نے تمہارے لئے لکھ رکھا ہے اسے طلب کرو،اور اس وقت تک کھاؤ پیو جب تک صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ممتاز ہو کر تم پر واضح نہ ہو جائے) (البقرۃ:۱۸۷) اور یہ آیت اپنے ذیل میں روزہ توڑ دینے والے چیزوں کے اصول کو شامل ہے۔

اور جن چیزوں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہو کہ یہ روزہ توڑ دیتی ہے ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ دلیل سے ثابت ہو۔ اور قرآن و حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں جو اس بات پر دلیل ہو کہ اچھی اورعمدہ خوشبو کی وجہ سے روزے کی صحت پر کوئی اثر پڑتا ہو۔

اوراس میں علماء کا اتفاق ہے، کوئی اختلاف نہیں۔ البتہ علماء کا اختلاف بخور کے سونگھنے میں ہے اور بخوراچھی اور پاک خوشبو سے مختلف ہے،کیونکہ بخور اٹھنے والا دھواں ہے اوراس سے کچھ اجزاء بنتے ہیں اور یہی وجہ ہے فقہاء کی ایک جماعت فرماتی ہے کہ بخورکا سونگھنا روزہ توڑنے والا ہے ۔

جہاں تک اچھی خوشبو کا تعلق ہے تو اس میں یہ سب برابر ہے جیسے عام خوشبو یعنی عود اور اس کی طرح تیل والی خوشبوئیں،یا وہ خوشبوئیں جس میں ایسی چیزیں استعمال ہوتی ہے کہ جس سے اچھی بو پھیلتی ہو جیسے صابون اور دھونے والا مواد یا اسکی  مٖثل وہ خوشبویئں بھی جس کو روزہ دار محسوس کرے جیسے حشرات مارنے والے سپرے میں سے ہو یا وہ سپرے کہ جو بعض زرعی آفات اوراس طرح کی اور چیزوں کو ختم کرنے کے لئے  استعمال ہوتی ہے یہ تما م خوشبوئیں روزہ افطار نہیں کرتی ،اور اس کے روزہ کو فاسد کرنے پر کوئی دلیل بھی نہیں اور یہاں تک کہ اگر اس بو کا ذائقہ بھی اپنے منہ میں پالے تو بھی یہ روزے کو افطار نہیں کرتی۔ کیونکہ اس پر بھی کوئی دلیل نہیں کہ یہ روزے کے لئے مفطر ہے ۔

اور یہی وجہ ہے کہ فقہاءؒ نے ایک مسئلہ ذکرکیا ہے اور فرمایا کہ اگر کسی نے ایسی چیز کو رگڑا اور اس کا ذائقہ اپنے حلق میں پایا  تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا کیونکہ یہ کھانا پینا  نہیں کہلاتا۔ لہذا ان خوشبووں کے ذریعے روزہ فاسد کرنے پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ یہ اپنے اصل پر باقی رہے گی اور یہ روزہ دار کےلئے جائز ہے اور یہی وجہ ہے کہ روزہ دار کے لئے خوشبووں کا استعمال کرنا جائز ہے خواہ دن کے آغاز میں ہو یا دن کے اختتام پراور برابر ہے کہ خوشبووں کا استعمال جسم پر ہو یا کپڑوں پر یا اس جگہ میں جس میں بیٹھتا ہو ۔

اور جہاں تک بخور کی بات ہے تو اہل علم کی ایک جماعت نے ذکر کیا ہے کہ اس کا جسم ہوتا ہے اور اس وجہ سے یہ مفسد ہے ۔ اور اہل علم کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ بخور روزے کو فاسد نہیں کرتی کیونکہ جو دھواں اس سے اٹھتی ہے اور پیٹ کے اند ر داخل ہوتی ہے تو یہ توڑا سا جو نہ اثر کرتا ہے اور نہ اس کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے اس کو کھایا پیا ۔     

اور اس طرح گاڑیوں اور غسل خانوں اور ہوٹلوں اور لکڑیوں  کا دھواں اور اس طرح کی اور چیزیں کے بارے میں یہی ہے بات کہ یہ روزے کو فاسد نہیں کرتا  ۔اور یہ اس وجہ سے کہ اس  جیسی چیزوں سے بچنا ممکن نہیں اور معلوم یہی ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جس سے بچنا ممکن نہ ہو تو کوئی اثر نہیں پڑتا اس کے پیٹ تک پہنچنے کا اور یہ قاعدہ جس کو مفطرات میں سے شمار کیا جاتا ہے کہ ہر وہ چیز جس سے بچنا ممکن نہ ہو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا جب یہ پیٹ تک پہنچ جائے ۔ اوراسی طرح  ہوا میں اڑنے والے جہاز اور وہ نم دار ہوا جو پیٹ تک پہنچتی ہو اورغبار اور وہ دھواں جو سڑکوں پر ہوتا ہے اور اس طرح گاڑیوں کی بو۔۔۔۔۔۔ یہ تمام مفطرات نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں۔

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں