فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / فوت ہوئے شخص کیلئے (رحمہ اللہ) کے الفاظ کہنا

فوت ہوئے شخص کیلئے (رحمہ اللہ) کے الفاظ کہنا

تاریخ شائع کریں : 2017-03-20 | مناظر : 1225
FA
- Aa +

فوت ہوئے شخص کیلئے (رحمہ اللہ) کے الفاظ کہنے کا کیا حکم ہے؟

حكم قول (رحمه الله) للمتوفى

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

اس میں کوئی حرج نہیں کہ کسی بھی زندہ یا مردہ شخص کیلئے "رحمہ اللہ"  یا  اللہ فلاں پر رحم کرے جیسے الفاظ کہے جائیں ، کیونکہ یہ جملہ خبر کے صیغہ کے ساتھ ہے جس کا مقصود دعا ہے نہ کہ خبر کہ اللہ اس پر رحم کرچکے۔ اس بات کی دلیل متعدد احادیث میں ملتی ہے، بخاری (۱۳۰۱) اور مسلم (۱۳۰۱) میں ابن عمر کی حدیث ہے کہ نبی ؐ نے فرمایا: ((اللہ حلق کرنے والوں پر رحم کرے)) اور بخاری (۶۳۳۵) میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے کہ نبیؐ نے ایک آدمی کو مسجد میں قرأت کرتے سنا تو فرمایا: ((اللہ اس پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں آیت یاد دلا دی جو میں بھول چکا تھا جو کہ فلاں سورت میں ہے))،  مسلم (۷۸۸) کی روایت میں ہے ((یرحمہ اللہ))۔

سلف کے کلام میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں، حضرت عائشہؓ نے حضرت عمر ؓ کی وفات کے بعد جب انہیں ان کا کوئی واقعہ یاد آیا تو فرمایا: اللہ عمر پر رحم کرے(رحم اللہ عمر)،  یہ حدیث بخاری میں ہے(۱۲۸۸)،  اسی طرح علیؓ کا قول ہے جو کہ بخاری (۳۶۷۷) نے ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں: میں لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا تو سب نے عمربن خطابؓ کیلئے دعا مانگی جبکہ انہیں جنازے کی چارپائی پررکھا جا چکا تھا، اچانک پیچھے سے کسی نے اپنا بازو میرے کندھے پر رکھا اور کہا: اللہ تم پر رحم کرے مجھے یہی امید تھی کہ اللہ تمہیں تمہارے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا کیونکہ میں نے رسول اللہؐ کو بارہا یہ کہتے سنا: میں ابوبکر اور عمر، میں نے ابوبکر اور عمر نے (فلاں کام) کیا، میں ابو بکر اور عمر گئے، تو مجھے یہی امید تھی کہ اللہ تمہیں تمہارے ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا، (ابن عباسؓ فرماتے ہیں) تو میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ علی بن ابی طالبؓ تھے۔

والله تعالى أعلم

آپ کا بھائی

خالد المصلح

13/01/1425هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں