فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / کیا میرے لئے اس درخت کا کاٹنا جائز ہے؟

کیا میرے لئے اس درخت کا کاٹنا جائز ہے؟

تاریخ شائع کریں : 2017-03-21 | مناظر : 1410
- Aa +

میرے گھر کے قریب ایک پرانا درخت ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتے بڑھتے گھر سے بھی بلند آور ہوگیا ہے اور اب ہر وقت اس کے پتے چھت کے بالائی سطح پر گرتے رہتے ہیں ، اور بسا اوقات تو یہ پتے بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے بنائے ہوئے پرنالہ کو بھی بند کردیتے ہیں ، بلکہ ایک مرتبہ تو خوب موسلادھار بارش برسنے کے بعد جب بارش کا پانی چھت پر جمع ہوا تو چھت گرنے کے قریب ہوگئی تھی اس لئے کہ وہ چھت ذرا سی پرانی ہے ، اور اس دن اگر فضلِ الٰہی شاملِ حال نہ ہوتا تو شاید اس دن چھت گرکر ہم اللہ کو پیارے بھی ہوچکے ہوتے ۔ بہرکیف ! اب اس درخت کے سا تھ میں کیا کروں؟ اس کی مکمل بیخ کنی کرلوں یا پھر اس کی شاخیں وغیرہ تراش لوں؟ لیکن ساتھ یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ یہ درخت حرمِ مکہ میں ہے ۔ ازراہِ کرم جلد از جلد جواب ارسال فرمائیں

هل يجوز لي قطع هذه الشجرة؟

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

آپ جو مرضی اس درخت کے ساتھ کریں چاہے اس کو جڑ سے اکھاڑ لے یا پھر اس کی شاخیں وغیرہ تراشیں ، اس لئے کہ حرم میں جن درختوں کو کاٹنے کی ممانعت احادیثِ مبارکہ میں وارد ہوئی ہے وہ خود رو درختوں کے بارے میں ہے یعنی وہ درخت جن میں کسی انسان کا عمل دخل نہ ہو۔ یہی جمہور علماء کا مذہب ہے ۔ البتہ جو درخت لوگوں کے کاشت کئے ہوئے ہوں تو پھر وہ ممانعت والے حکم میں داخل نہیں ہیں ۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

26/10/1424هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں