×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / متفرق فتاوى جات / کسی دینی کیسٹ پر پاؤں رکھنا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-03-21 06:29 PM | مناظر:1947
- Aa +

کیا کسی ایسی کیسٹ پر پاؤں رکھنا گناہ ہے جس میں آیاتِ قرآنی یا دینی دروس ہوں؟

وضع القدم على شريط ديني

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ یہ کیسٹ اور اس جیسے باقی ریکارڈر جن میں بعض قرآنی سورتیں یا آیاتِ کریمہ یا علم و حدیث کے متعلق کچھ ریکارڈ کیا جاتا ہے تو وہ یکسر مصحف یا علمی کتابوں کے حکم میں داخل نہیں ہیں ۔

لیکن اس پر پاؤں رکھنا دوحالتوں سے خالی نہیں ہے:

پہلی حالت یہ کہ اگر ایسا کرنے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے کلام کی بے حرمتی مقصود ہو تواس صورت میں یہ گناہ کبیرہ ہے جس کی وجہ سے وہ دائرۂ کفر میں داخل ہوجاتا ہے ، اس لئے کہ کفر کے لئے صرف دِلی طور پر بے حرمتی بھی کافی ہے اگر چہ یہ بے حرمتی اس پر پاؤں رکھنے کی وجہ نہ بھی ہو ، لیکن دینی کیسٹ وغیرہ پر پاؤں رکھنا یہ باطنی خباثت اورسُوءِ اعتقاد کی کھلی دلیل  ہے کہ وہی باطنی خباثت اس صورت میں ظاہر ہوتی ہے ۔

دوسری حالت یہ ہے کہ ایسا غلطی سے کرے ، اگر ایسی صورت ہو تو پھر اس پر کوئی وبال نہیں لیکن پھر بھی حتی الامکان کوشش کرنی چاہئے کہ کسی بھی طرح اس کی بے حرمتی نہ ہو ، اس لئے کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یہ بات دلوں کے تقوی سے حاصل ہوتی ہے‘‘ ۔  (الحج: ۳۲)۔  واللہ أعلم

آپ کا بھائی

خالد المصلح

19/12/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں