فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / شوال کے چھ روزوں کوقضاء سے پہلے مقدم کرنا

شوال کے چھ روزوں کوقضاء سے پہلے مقدم کرنا

تاریخ شائع کریں : 2017-03-24 | مناظر : 1460
- Aa +

کیا حکم ہے شوال کے چھ روزوں کوقضاء رکھنے سے پہلے مقدم کرنے کا ؟

تقدیم صیام الست من شوال قبل القضاء

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (اور اگر کوئی شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو،تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے)۔(البقرۃ:۱۸۵) اوراس سے پہلے والی آیت میں ہے: (پھر بھی اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو،تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے)۔(البقرۃ:۱۸۴) اب جس نے رمضان میں افطار کرلیا ہے تو اس کے اوپر اس کی قضاء واجب ہے ۔

اور کیا قضاء روزوں سے پہلے نفل روزے رکھنا جائز ہے؟ یہ ایک عام مسئلہ ہے کیونکہ قضاء سے پہلے چھ روزے رکھنے والا مسئلہ اسی سے ہی دراصل نکلا ہے ۔ جمہورعلماء قضأء سے پہلے نفل روزے کو صحیح مانتے ہیِں البتہ انہوں نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ جب تک اس معاملہ میں رخصت ہے تو یہ جائز ہے کہ نفل روزوں سے ہی ابتدا کی جائے اوراس میں کراہت کوئی نہیں اور جمہور میں سے کچھ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ قضاء روزوں سے پہلے نفل روزے شروع کرنا مکروہ ہے،اور مناسب یہ ہے کہ انسان پہلے قضاء سے شروع کرے  کیونکہ یہ لازم اور واجب ہے ۔ اور اہل علم میں سے ایک جماعت اس بات کی طرف گئی ہے کہ فرض روزوں سے پہلے نفل روزے رکھنا ناجائز ہے اور یہ امام احمد ؒ  کا مذہب ہے ۔

اور جہاں تک جمہور حنفیہ اور مالکیہ اور شوافع کا تعلق ہے تو وہ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ نفل روزوں  سے پہلے قضاء روزے رکھنا صحیح ہے ۔

اور جہاں تک چھ روزوں کا مسئلہ ہے تو اس بارے میں ایک حدیث جو صحیح مسلم میں ابوایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ نبینے فرمایا: (جو رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے یہ ایسے ہے جیسے کہ پوری زندگی روزے رکھنا) تو کیا یہ حدیث جمہور کے اس قول سے خارج ہے جس میں وہ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ قضاء روزوں سے پہلے نفل شروع کرنا جائز ہے؟ علماء کی ایک جماعت اس بات کی طرف گئی ہے کہ ان چھ روزوں سے شروع کرنا جائز نہیں، مطلب یہ کہ انسان ان چھ روزوں کی فضیلت اس وقت تک نہیں پاسکتا جب تک یہ قضاء روزوں سے فارغ نہ ہو چکا ہو، نبیکی اس قول کے مطابق: (پھر اس کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے) اور اس کی صراحت فقہاء میں سے حنابلہ اور شافعیہ میں سے ایک جماعت نے کی ہے ۔

اور اہل علم کی ایک جماعت اس بات کی طرف بھی گئے ہیں کہ ''ثم'' کا لفظ اس حدیث میں تعقیب کے لئے نہیں ہے جو رمضان کے تمام روزوں کو أداءً وقضاءًپورا کرنے کا مطلب دے ۔ بلکہ اس کا مقصود یہ ہے کہ ان چھ روزوں کا رکھنا جو رمضان کے سا تھ ملے ہوئے ہیں وہ اجر کی تکمیل کے لئے ہیں کیونکہ دھر سے مراد سال ہے ۔ لہذا رمضان کے روزے دس ماہ کے برابر اور یہ چھ روزے دو ماہ کے برابر ہے تو اس طرح ان روزوں کی وجہ سے گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے ۔ اوراس وجہ سے فقہاء نے کہا ہیں کہ کوئی فرق نہیں چاہے وہ چھ روزے رکھے قضاء سے پہلے یا یہ کہ قضاء رکھے اوراس کے بعد چھ روزے رکھ لے ۔ کیونکہ مقصود حاصل ہو جائے گا ۔

پھر نبیکا فرمان (جس نے رمضان کے روزے رکھے) تو جس نے رمضان کے  اکثر روزے رکھے اور بعض دنوں میں عذر کی وجہ سے افطار کیا تو اس  کے بارے میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے رمضان کے روزے نہیں رکھے، مثلا میں یہ کہوں: کہ میں نے رمضان کے روزے رکھے ہیں اور سفر کی وجہ سے دو دن افطار کیا،تو کیا مجھ پر یہ بات صادق آتی ہے کہ میں نے رمضان کے روزے رکھے یا نہیں؟ ہاں ! یہ بات مجھ پر صادق آتی ہے کہ میں نے رمضان کے روزے رکھے اگرچہ مجھ پر قضاء بھی ہے کیونکہ اس طرح کرنا بندے کو نبیکے اس فرمان سے (جس نے رمضان کے روزے رکھے) نہیں نکالتا ۔

اور ان دونوں قولوں میں سے میرے نزدیک راجح اور صحیح کے زیادہ قریب  یہ ہے کہ قضاء سے پہلے چھ روزے رکھنا جائز ہے اس لئے کہ اس میں گنجائش ہے ان عورتوں کے لئے جن کو غالب طور پر ضرورت ہوتی ہے اپنے روزوں کی قضاء کرنے کی اور دوسرا یہ کہ اس میں عذر والوں کے لئے بھی گنجائش ہے جو یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کو چھ روزوں کی فضیلت مل جائے ان پر وقت کی تنگی کے پیش نظر ۔ لیکن توجیہ کے اعتبار سے ہم کہتے ہیں کہ مناسب یہ ہے کہ آغاز قضاء سے کیا جائے ۔ افضل قضاء سے آغاز کرنا ہے پھر شوال کے چھ روزے رکھنا ہے لیکن اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں پہلے یہ چھ روزے رکھنا چاہتا ہوں تو میری پاس ایسی کوئی دلیل نہیں کہ اس کو اس طرح کرنے سے روک دو ۔ واللہ اعلم

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں