فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / نفل روزے کو قضاء روزے پر مقدم کرنا

نفل روزے کو قضاء روزے پر مقدم کرنا

تاریخ شائع کریں : 2017-03-24 | مناظر : 1136
FR
- Aa +

نفل روزے کا قضاء روزے پر مقدم کرنے کا کیا حکم ہے؟

تقدیم صیام التطوع علی القضاء

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

جمہورعلماء اس بات پر ہے کہ قضاء سے پہلے نفل روزہ رکھنا جائز ہے اور دوسرا یہ کہ رمضان کے قضاء روزوں سے پہلے ۔جو اس کے ذمہ ہے۔  نفل روزہ رکھتا ہے تو اس کو اجر ملتا ہے ۔ قضاء میں اس حالت میں کافی گنجائش دی گئی ہے، کیونکہ اس کے پاس آنے والے رمضان تک کا وقت ہے تو لہذا انسان اس میں ان روزوں کی قضاء کرے جو اس کے ذمہ باقی ہے اور روزوں کی قضاء کرنے میں جلدی کرے ۔

اور یہاں میں اپنے بھائیوں تنبیہ کرتا ہوں کہ جس پر قضاء ہے تو افضل یہ ہے کہ وہ دس دنوں میں قضاء کرے اورعمر بن خطابؓ نے یہی حکم دیا کیونکہ جس بندے پر قضاء ہوتی وہ اس کو حکم دیتے تھے کہ وہ ان دس دنوں میں روزہ رکھے کیونکہ یہ ان پسندیدہ امور میں سے ہیں کہ جن کے سا تھ اللہ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے اور صحیح میں ابو ہریرۃؓ سے نقل ہے کہ نبیفرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (جس نے میرے دوست سے دشمنی کی تو اس کومیری طرف سے جنگ کا اعلان ہے ۔ پھر فرمایا کہ اور جو بندہ میرے فرض احکام کے ساتھ میرے قریب ہوتا ہے یہ میری محبوب چیزوں میں سے ہے) لہذا افضل چیز جس کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے اس عشرہ میں فرائض کی ادائیگی ہے اور رمضان کی قضاء بھی فرائض کی ادائیگی میں سے ہے لیکن آنے والے سال میں پہلے ابتداء قضاء سے کرنی چاہیئے خصوصا ان دنوں میں زیادہ اجر ہونے کی امید کی وجہ سے جو کہ فرائض کی ادائیگی سے حاصل ہوتا ہے۔ تو فرائض کی ادائیگی ان دنوں میں بقیہ ایام کی بہ نسبت زیادہ عظمت والی ہے ۔

اور یہی وہ بات ہے جو حضرت عمرؓ سمجھے تھے اور جس کی وجہ سے لوگوں کو حکم دیتے تھے کہ وہ اپنی قضاء  کرے ذوالحجۃ کے دس دنوں میں ۔  

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں