فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / رمضان میں دن کے وقت جماع کا حکم

رمضان میں دن کے وقت جماع کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-03-27 | مناظر : 1173
- Aa +

رمضان میں دن کے وقت جماع کا کیا حکم ہے؟

ما حكم الجماع في نهار رمضان؟

 حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

صحیحین میں حمید بن عبد الرحمان کی حدیث ہے جو کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے:((کہ ایک آدمی نبیؐ کے پاس آیااور کہنے لگا: یا رسول اللہ میں ہلاک ہو گیا، آپؐ نے فرمایا: کس چیز نے تمہیں ہلاکت میں ڈالا؟ کہنے لگا: میں رمضان میں دن کے وقت اپنی اہلیہ سے جماع کر بیٹھا ہوں ، تو آپؐ نے کہا: کیا تمہارے پاس غلام آزاد کرنے کیلئے کچھ ہے؟ تو وہ کہنے لگا: نہیں، آپؐ نے فرمایا: کیا تم دو مہینے کے روزے پے در پے رکھ سکتے ہوں؟ کہنے لگا: نہیں، آپؐ نے فرمایا: کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟، کہنے لگا : نہیں)) لہذا اس حدیث سے یہ ظاہر ہو گیا ہے کہ کفارہ لازم آئے گا اور آپؐ نے بیان فرما دیا کہ کیا کفارہ کے طور پر واجب ہوتا ہے ایسے شخص پر جو روزہ کے ساتھ جماع کر بیٹھے۔ بالتقریب ہم اس طرح سے روایت کا معنی ذکر کرتے ہیں : کہ سب سے پہلی چیز جو واجب ہے وہ توبہ ہے اس گناہ سے جو کہ بذات خود ہلاکت ہے اور آپؐ نے جب اس شخص سے پوچھا کہ کس چیز نے تمہیں ہلاک کیا تو گویا کہ آپ ؐ نے اس معنی کو مزید توثیق بخشی پھر اس کے بعد بیان فرمایا کہ اب کیا لازم ہوتا ہے۔

سب سے پہلے تو: آپ پر واجب ہے کہ اس جرم عظیم جو کہ ہلاکت کے اسباب میں سے ہے،توبہ کریں پھر یہ ہے کہ اس دن افطار تک وقت پورا کریں یعنی اگر انسان سے کچھ ایسا سرزد ہو بھی جائے تو اس پر واجب ہے کہ اس دن افطار تک روزے ہی کی حالت ہیں رہے۔ یہ مطلب بالکل نہیں کہ اگر کسی نے روزہ توڑ بھی دیا تو اس کے لئے جو چاہے کھانا جائز ہے جیسا کہ آجکل اکثر لوگ کرتے ہیں، لہذا اس فرد کو چاہئیے کہ کچھ نہ کھائے پیئے کیونکہ اس دن کے ہر لمحے کا احترام کھانے پینے اور روزہ توڑنے والے اسباب سے دور رہ کر کرنا ضروری ہے۔

تیسری بات یہ کہ اس پر کفارہ بھی واجب ہے،اور کفارہ وہی ہے جو کہ رسول اللہؐ نے ابوہریرہؓ والی حدیث میں بیان فرمایا: غلام آزاد کرنا، اگر یہ نہ ہو سکے یعنی مالی استطاعت نہ ہو یا اس بقعہ میں غلام پائے ہی نہ جاتے ہوں جیسا کہ آج کل ہے، تو اس صورت میں کفارہ دوسرے مرتبے کی طرف منتقل ہو جائے گا جو کہ دو مہینے کا مستقل پے در پے روزے رکھنا ہے۔

کیا آپ اس کی استطاعت رکھتے ہیں؟ اس استطاعت کا کوئی متعین پیمانا نہیں ، یہ ایک ذاتی اندازہ ہے اور اسی وجہ سے آپؐ نے فرمایا ہے: کہ کیا تم استطاعت رکھتے ہو، اور کوئی مزید سؤال جواب اس کے بارے میں نہیں کیا کیونکہ استطاعت بندے کا اللہ کے ساتھ ذاتی معاملہ ہے۔

بعض علماء نے اس کو ضبط دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ جو رمضان کے روزے رکھ سکتا ہے تو وہ اس کفارے کی استطاعت رکھتا ہے، لیکن یہ اصول ٹھیک نہیں؛کیونکہ جو آدمی آیا وہ رمضان کے روزے رکھ سکتا تھا لیکن رسول اللہؐ نے اس کی محض رمضان کے روزے رکھنے کی استطاعت پر اکتفاء نہیں فرمایا کہ وہ دو مہینوں کے روزے بھی رکھ لے گا بلکہ اس سے پوچھا: کیا اس کی استطاعت رکھتے ہو؟ تو اس نے کہا: نہیں، اور اسی وجہ سے آپؐ تیسرے مرتبے کہ طرف منتقل ہو گئے جو کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے اگر آپ اس پر قادر ہوں۔

اس کھانا کھلانے کی مقدار کیا ہے؟ اس بارے می کوئی واضح تعیین نہیں وارد ہوئی جس کو اختیار کیا جا سکے، لیکن کم از کم جو علماء نے کہا ہے وہ آدھا صاع ہے اور بعض علماء کہتے ہیں : اتنی مقدار ہو جس سے کھانا کھلانے کا حق پورا ہو سکے ، آدھا صاع سے مراد بھی علاقہ کے رائج کھانے میں سے ہے کجھور ہو یا گندم اور یہ تقریباََ ڈیڈھ کلو بنتا ہے، اتنا ہو جس سے کھانا کھلانے کے معاملہ میں بری الذمہ ہو جائے۔

اگر کوئی ان تینوں مراتب کی قوت نہ رکھتا ہو تو اس کیلئے دو کام ہیں: ایک تو یہ کہ وہ توبہ کرے اور دوسرا یہ کہ اس دن کا روزہ پورا کرے، اس پر کفارہ نہیں ہے ، کیا قضاء واجب ہو گی یا نہیں؟ ابن ماجہ کی روایت میں ہے(( اس روزے کی جگہ ایک دن روزہ رکھو)) لیکن یہ روایت ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ شاذ بھی ہے لہذا اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔

کیا اس پر قضاء واجب ہے؟ امت کے جمہور علماء کا کہنا ہے کہ اس پر واجب ہے کہ قضاء کرے، اہل علم کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ اگر اس نے ارادی طور پر روزہ توڑا ہو تو قضاء کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، اور یہ کہنا صحیح بخاری کہ ایک حدیث کی بناء پر ہے جو کہ ابو ہریرہؓ سے تعلیقاََ مروی ہے، امام بخاریؒ فرماتے ہیں : ابوہریرہؓ سے مذکور ہے کہ نبیؐ نے فرمایا:((اگر کسی نے بغیر کسی عذر کے رمضان کے ایک دن کا روزہ توڑڈالا اس کو پوری زندگی کے روزے بھی فائدہ نہ دیں گے اگرچے وہ رکھ بھی لے)) اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ اس ایک دن کے برابر نہیں ہو سکتے لہذا آپ ساری زندگی روزہ رکھ بھی لیں تو بھی اس ایک دن کے برابر نہیں ہو سکتے۔

کیا اب توبہ کا دروازہ بند ہو گیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ نہیں، توبہ کا دروازہ کھلا ہے((کہہ دیجئے اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ، اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہونا)) [الزمر:۵۳] اب بحث یہ رہ گئی تھی کہ کیا ایک دن کا روزہ اس کے مقابلے میں فائدہ دے گا ؟ تو ان حضرات کا کہنا ہے کہ نہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تو اب آپ کیا کر سکتے ہیں؟ ((بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹاتی ہیں)) [ہود:۱۱۴]  لہذا نیک اعمال زیادہ سے زیادہ کریں اللہ آپ کی توبہ قبول کریں گے۔

خلاصہ یہ ہے کہ: میرے نزدیک قضاء اس دن کے مقابلے میں تو فائدہ نہیں دے گی مگر اس شخص کو چاہئیے کہ زیادہ سے زیادہ روزے رکھے ممکن ہے اللہ تعالی معاف کر دیں۔

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں