فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / رمضان میں روزہ کے ساتھ مشت زنی کرنا

رمضان میں روزہ کے ساتھ مشت زنی کرنا

تاریخ شائع کریں : 2017-03-27 | مناظر : 1460
- Aa +

رمضان میں روزہ کے ساتھ مشت زنی کرنے کیا حکم ہے؟

الاستمناء في نهار رمضان

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

جو رمضان میں روزہ کے ساتھ مشت زنی کرے اس پر کفارہ نہیں کیونہ کفارہ صرف جماع کرنے کی صورت میں ہی واجب ہوتا ہے، اور جہاں تک مشت زنی کی بات ہے تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے جیسا کہ عام علماء کا کہنا ہے کیونکہ یہ بھی اسی کے تحت داخل ہوتا ہے جو کہ صحیحین میں ابوہریرہؓ کی حدیث میں آیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ((اللہ تعالی فرماتے ہیں: بندہ اپنا کھانا پینا اور شہوت میرے لئے چھوڑتا ہے))، اور اسی میں مشت زنی کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے منی کے نکالنے سے قضائے شہوت کرنا بھی آتا ہے چاہے یہ منی کا نکالنا کچھ دیکھنے سے ، کچھ سننے سے یا حرکت کے ذریعے ہو یہ سب حدیث قدسی میں مذکورہ شہوت میں داخل ہے۔

لہذا واجب اب یہ ہے کہ اس سے دور رہے، اور میں نے جیسے ابھی کچھ دیر پہلے زنا کے بارے میں کہا پھر کہوں گا کہ ہر ایمان والے کو چاہیے کہ اپنے دین کے معاملے میں بہت احتیاط سے کام لے اور حد سے تجاوز نہ کرے، مجھے بعض لوگوں کو دیکھ کر بڑا تعجب ہوتا ہے جب وہ حرام سننے، حرام دیکھنے اور دیگر حرام افعال کا دروازہ اپنے اوپر خود کھول لیتے ہیں جس کے نتیجے میں ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے اور وہ اپنے نفس امارہ اور اپنی خواہش کا غلام بن جاتا ہے اور اپنے آپ کو خود ہی ان خواہشات کے ہاتھوں قربان کر دیتا ہے اور مزید ڈھیل دیئے رکھتا ہے۔

میرے پیارے بھائی! یہ روزہ ہے لہذا اللہ کیلئے اپنے آپ کو روکو اور اللہ نے جو کچھ اپنے پاس تیار کر رکھا ہے اس میں رغبت ظاہر کرو، ہر ایمان والے کو یہ یقین رکھنا چاہئیے کہ اگر اس نے محض اللہ کے خوف سے اور اس کی موعود نعمتوں میں رغبت رکھتے ہوئے کچھ (خواہش پوری کرنے کا کام) چھوڑا تو اللہ اس کو اس سے بہتر عطا کریں گے ((کسی نے اللہ کیلئے کچھ چھوڑا اللہ اس کو اس سے بہتر عطا کریں گے))۔

بعض لوگ کہتے ہیں: کہاں ہے وہ بہتر چیز؟ ہم نے یہ معصیت تو چھوڑی مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔ یہ بات جان لینی چاہئیے کہ یہ لازم نہیں کہ عوض میں بھی جو ملے گا وہ اسی جنس کا ہو جو چھوڑا ہے، ممکن ہے کہ اس سے بھی بہتر ہو، یہ شخص اس معصیت سے کسی درجے کی خواہش پوری کر سکتا ہے ، اپنی تمنا حاصل کر لیتا ہے اور کسی حد تک خوشی بھی محسوس کرتا ہے، لیکن جو اس کو اس معصیت کے چھوڑنے پر جو اطاعت کا جذبہ، احسان، سچائی، ایمان، خشوع اور اللہ کا دھیان نصیب ہوتا ہے وہ معصیت کی لذت سے کہیں زیادہ ہے، لیکن بہت سے لوگ اس کا ادراک نہیں کر سکتے، اس لذت کو محسوس نہیں کر سکتے اور یہ گمان کرتے ہیں کہ معصیت کی لذت حقیقت میں اس کو چھوڑ دینے کی لذت سے کہیں زیادہ ہے، مگر ان دونوں لذتوں میں درحقیقت بہت ہی زیادہ فرق ہے، گناہ چھوڑ دینے کی لذت زیادہ ہے؛ کیونکہ وہ ایمان ، اطمئنان ، سرور اور دیگر عظیم نتائج رکھتی ہے، لیکن بہت سے لوگ اسے محسوس نہیں کر پاتے کیونکہ ہم سب موجودہ لمحے کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں، اور اگر کسی لمحے مؤمن کو اس سرور کا ادراک ہو جائے تو یہ اللہ کے قریب ہونے کا بہت بڑا ذریعہ ہوتی ہے کیونکہ اس کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ میں نے یہ گناہ  میں نے محض اپنے رب کی رحمت کی وجہ سے چھوڑا ہے اور اگر اللہ نے یہ مجھ پر حرام کیا بھی ہے تو بھی کسی مصلحت کے تحت ہی کیا ہے، نہ کہ بخل یا کسی اور وجہ سے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی اور آپ کو بھی اطاعت اور خوشنودگی کے حصول میں اپنی مدد نصیب فرمائے اور ہماری حفاظت فرمائے۔

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں