فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / رمضان میں روزے کہ حالت میں ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کرنا

رمضان میں روزے کہ حالت میں ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کرنا

تاریخ شائع کریں : 2017-03-27 | مناظر : 1885
- Aa +

رمضان میں روزے کہ حالت میں ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

استعمال معجون الأسنان في نهار رمضان

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

اللہ تعالی نے روزے بڑے ہی عظیم مقصد کیلئے فرض کئے ہیں، ارشاد فرمایا: ((اے ایمان والو! تم پر روزے لکھ دئے (فرض کر دئے) گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلوں پر لکھے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ)) [البقرہ:۱۸۳] ۔ تو روزے سے مقصود تقوی ہے اور تقوی میں سے  یہ بھی ہے کہ انسان اس عبادت میں جو کچھ اس پر واجب ہے اس کو جانے اور ان احکام کو بھی جن سے شرعی روزہ برقرار رہتا ہے۔

روزہ مفطرات (روزہ توڑنے والی چیزیں) سے رکنے کا نام ہے فجر کے طلوع ہونے سے آفتاب کے غروب ہونے تک اور ان مفطرات یعنی روزہ توڑنے والے اسباب کی تعیین میں اصل کلام اللہ اور سنت رسولؐ ہے، تو جس کو اللہ نے مفطر شمار کیا تو وہ مفطر ہے اور اسی طرح جس کو رسول اللہؐ نے مفطرشمار کیا وہ مفطر ہے اور ان مفطرات کے اصول اللہ تعالی نے ذکر کئے ہیں: ((چنانچہ اب تم ان سے صحبت کر لیا کرو، اور جو کچھ اللہ نے تمہارے لئے لکھ رکھا ہے اسے طلب کرو اور اس وقت تک کھاؤ پیو جب تک صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ممتاز ہو کر تم پر واضح نہ ہو جائے اس کے بعد رات آنے تک روزے پورے کرو)) [البقرہ:۱۸۷] مطلب یہ کہ یہ ہیں وہ اسباب جو روزہ توڑتے ہیں: جماع، کھانا، اور پینا تو یہی مفطرات کے اصول ہیں۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے تو اس کے مفطر ہونے یا نہ ہونے کیلئے دلیل دیکھنا لازم ہے، احتیاط ایک مختلف امر ہے حتمی حکم سے کہ روزہ ٹوٹا ہے یا نہیں، لہذا اس بات کی پوری یقین دہانی ہو کہ مفطرات کا ثبوت صرف دلیل سے ہی ہوتا ہے، اسی وجہ سے خوشبو، روزہ کی حالت میں غسل اور دیگر اشیاء کے بارے میں بہت سے لوگ پوچھتے ہیں، سؤال یہ کرنا چاہئیے کہ کیا یہ مفطرات میں ہیں یا نہیں؟

اور جہاں ٹوتھ برش یا پیسٹ سے دانت صاف کرنے کی بات ہے تو اس میں بھی اصل تو یہی ہے جو پہلے ذکر کیا کہ کسی چیز کے بارے میں تب تک یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس سے روزہ ٹوٹتا ہے جب تک اس پر دلیل نہ ثابت ہو جائے، ٹوتھ برش یا مسواک کے استعمال کے بارے میں کوئی ایسی دلیل ثابت نہیں جو کہ مانع ہو اور اس سے روزہ ٹوٹ جائے، لہذا روزہ دار کیلئے دانت صاف کرنے کیلئے مسواک اور ٹوتھ برش کا استعمال جائز ہے، مگر یہ ملحوظ رہے کہ وہ مسواک جس میں رطوبت ہو اور ایسی پیسٹ جس میں اثر اور ذائقہ ہو تو احتیاط کرنی چاہئیے کہ اس کا کچھ حصہ بھی کہیں پیٹ میں نہ چلا جائے، فی حد ذاتہ اس کا استعمال جائز ہے، لیکن اگر کسی شخص نے جو کچھ مواد سے کے لعاب میں جمع ہوا اسے نگل لیا یا ان ذرات کو جو اس مواد سے اس کے لعاب میں رہ گئے تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا برش یا پیسٹ کے استعمال سے نہیں بلکہ اس چیز کے نگلنے سے جس سے احتیاط کرنی تھی۔ لہذا برش ، پیسٹ یا دیگر منہ صاف کرنے والی اشیاء کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں، بالکل جائز ہے۔

ایک اشکال ہے جو بعض لوگ ذکر کرتے ہیں، اور وہ یہ کہ صحیحین کہ  حدیث میں آیا ہے: ((روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ تعالی کے ہاں مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے))، تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسواک کرنا روزہ دار کے منہ کی بدبو کو ختم کر دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ فقہاء کہ ایک جماعت نے زوال کے بعد مسواک کے استعمال کو مکروہ کہا ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ صائم کے منہ کی بدبو کا دانت صاف کرنے سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اس سے مراد وہ بدبو ہے جو خالی پیٹ رہنے سے منہ میں پیدا ہوتی ہے اسی لئے اس کیلئے خلوف کا لفظ استعمال کیا گیا اور یہ بدبو پیٹ سے اٹھتی ہے نہ کہ دانتوں سے جہاں بچا کھچا کھانا رہ جاتا ہے جس کی وجہ اس سے عجیب بو پیدا ہوتی ہے جس کے ازالہ کیلئے مسواک کا استعمال کرنا چاہئیے، رسول اللہؐ کا فرمان ہے:(( مسواک منہ کو پاکیزہ کرتی ہے اور رب کو راضی کرنے کا ذریعہ ہے)) اور صحیحین میں ابو ہریرہؓ کی حدیث ہے کہ نبیؐ نے فرمایا: (( اگر مجھے اپنی امت پر حرج میں پڑ جانے کا خدشہ نہ ہوتا ان کو ہر نماز سے پہلے مسواک کا حکم دیتا))، لہذا روزہ دار کے منہ کی بدبو اور بچے کھچے کھانے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بدبو میں فرق کرنا چاہیئے، اس بدبو کو زائل کرنے سے خلوف جو کہ روزہ دار کے منہ کی بو ہے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، پیٹ سے اٹھنے والی بدبو میں انسان کا ویسے بھی کوئی دخل نہیں۔

روزہ داروں سے متعلق سوالات کے بارے میں، میں یہ عرض گا: کہ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ انسان دین میں تفقہ حاصل کرے اور جو اس کو سمجھ نہ آئے یا اشکال ہو اس کے بارے میں سؤال کرے اور واجب بھی یہی ہے، اللہ تعلی کا فرمان ہے:((علم والوں سے پوچھو اگر تم علم نہیں رکھتے)) [النحل:۴۳]، لیکن میں ایک بڑی اہم بات کی طرف تأکیداََ توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ہم جس طرح ظاہری صورت و اشکال کی طرف دھیان دیتے ہیں ہمیں چاہئیے کہ مقاصد کی طرف بھی اتنی ہی توجہ دیں، مطلب یہ کہ ہما رے ہاں بعض امور میں خلل ہے وہ یہ کہ ہم بڑے ہی دقائق مسائل کے بارے میں تو پوچھتے ہیں اور اس سے عظیم اشیاء چھوڑ جاتے ہیں، مثال کے طور پے آپ کو ایسا شخص تو ملے گا جو برش کے استعمال کا حکم پوچھ رہا ہو گا، اچھا ہے ہم اس کو برا ہر گز نہیں کہتے، اگر برا کہتے ہیں تو اس امر کو کہ اس سؤال سے بھی زیادہ اہم امور سے اہمال برتا جاتا ہے ، کوئی غیبت کا روزے پر اثرانداز ہونے کے بارے میں نہیں پوچھتا، نہ ہی چغلی کے اثر کا اور نہ ہی والدین کی نافرمانی سے، نماز چھوڑنے سے روزے پر کیا اثر پڑتا ہے ، اس بارے میں کوئی پوچھتا ہے؟ ان عظیم الشان امور کو بہت سارے لوگ نظر انداز کر جاتے ہیں اور اس کے بارے میں سؤال کرنے کی زحمت تک نہیں کرتے اور صرف اس طرح کے سؤالات کرتے ہیں کہ میرا خون نکل گیا تو اس کا روزے پر کیا اثر ہے؟ میں نے مسواک کر لی اس کا کیا اثر ہے؟ اس سب کی ہم کمی ہزگز نہیں لاتے کیونکہ دین کو سمجھنے میں چھوٹے بڑے کی کوئی قید نہیں ہے، ہر چیز کے بارے میں ضرورت کے وقت پوچھا جاتا ہے، لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ سب سے اعلی درجے کا اہتمام ان امور کو دیا جائے جو کہ واضح ہیں، غیبت کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ یہ کبائر میں سے ہے اور بڑا عظیم گناہ ہے ، اسی طرح چغلی اور والدین کی نافرمانی، اسی طرح تکبر،حسد،بغض،خودپسندی،اور ریاء، حالت یہ ہے کہ ہم ان تمام سے اور ان کے روزہ پر اثر سے غافل ہیں جبکہ آپؐ کا فرمان ہے: [جو جھوٹی بات کا کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے]

تنبیہ اس بات پر کرنا چاہ رہا ہوں کہ جیسے ہم چھوٹے موٹے امور کی طرٖ ف توجہ دیتے ہیں اسی طرح ہمیں چاہئیے کہ عظیم امور کے بارے میں سؤال اور ان کا اہتمام اعلانیہ طور پر ہونا چاہیئے تاکہ لوگ جاننے کے باوجود پوچھیں ، جبرئیل علیہ اسلام آپ ؐ کے پاس آئے اور ان سے اسلام ایمان اور احسان کے بارے میں پوچھا، دیکھئے یہ ہیں عظیم مسائل جن کی بڑی قیمت اور تاثیر ہے جب وہ چلے گئے آپؐ نے فرمایا: ((کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ سائل کون تھا؟، صحابہ نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، فرمایا:یہ جبرئیل تھا، یہ تمہیں تمہارا دین سکھانے آیا تھا)) آپؐ نے سؤال کو علم کے وسائل میں شمار کیا۔

اللہ سے دعا ہے کہ مجھے بھی اور آپ کو بھی دین میں تفقہ نصیب فرمائے، اور ایسی بصیرت جس سے ہمیں وہ نفع دے اور ہمیں شیطان کے وساوس سے بچائے

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں