×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / روزه اور رمضان / نیت تو روزہ نہ رکھنے کی ہو مگر کھائے کچھ نہیں تو روزہ ہو گا یا نہیں؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-03-28 03:59 PM | مناظر:2172
- Aa +

نیت تو روزہ نہ رکھنے کی ہو مگر کھائے کچھ نہیں تو روزہ ہو گا یا نہیں؟

النية الجازمة للفطر دون أكل هل يفطر بها الصائم؟

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

یہ تو معلوم ہے کہ روزہ کی حقیقت یہ ہے کہ نیت ہو اور اپنے آپ کو روکنا ہو، روزہ دو طرح کی حقیقت کا مرکب ہے یعنی: کھانے پینے اور جماع کرنے سے رکنا، لہذا اگر کوئی کھانے پینے اور جماع سے تو رکا رہے مگر نیت نہ ہو تو وہ روزہ دار نہیں ہو گا، اور اگر اس نے نیت تو کی ہو مگر پھر کھا لیا تو بھی وہ روزہ دار نہیں رہے گا کیونکہ اس نے اپنی نیت کے مخالف عمل کیا، اسی بنیاد پر ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ روزہ دو چیزوں سے مرکب ہے: نیت اور روزہ توڑنے والے افعال سے رکنا، اس کے ساتھ ساتھ اگر وہ نیت دوران روزہ کے توڑ دے یعنی روزہ کھولنے کی نیت کر لے تو فقہاء کا اس بارے میں کہنا ہے کہ جو فطر یعنی روزہ نہ رکھنے کی نیت کر لے تو وہ روزہ کھول ڈالے مطلب یہ کہ اگر وہ خود ہی اس امر کو کھو دے جس کو لازم پکڑنا اس پر واجب تھا یعنی مفطرات (روزہ توڑنے والی اشیاء) سے رکنے کی نیت تو اس کا یہ فعل روزے کیلئے مفسد ہو گا یعنی روزہ توڑ دے گا اور یہی قول صحیح ہے اور دلیل کے اعتبار سے بھی یہی واضح ہے کیونکہ آپؐ کا فرمان ہے: ((اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے)) تو یہ ایسا عمل تھا جو نیت سے خالی ہو گیا تو پھر یہ صحیح نہیں رہا


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں