فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / سرایت کر جانے والی خوشبو کے استعمال کا حکم

سرایت کر جانے والی خوشبو کے استعمال کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-03-28 | مناظر : 884
- Aa +

سرایت کر جانے والی خوشبو کے استعمال کا کیا حکم ہے؟

استعمال الروائح النفاذة في رمضان

 

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

جمہور علماء کا کہنا ہے کہ ایسا تیل استعمال کرنا جس کی خوشبو ہے جیسا کہ ویکس وغیرہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ یہ نہ تو کھانے پینے کے زمرے میں آتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی ایسا معنی پایا جاتا ہے، اور انسان کے بدن یا اس کے پیٹ میں خوشبو کا پایا جانا روزہ ٹوٹنے کا حکم نہیں لگاتا، اسی وجہ سے فقہائے حنفیہ اور شافعیہ نے صراحت کی ہے کہ اگر کسی دوا کا لینا دینا ہو اور اس کا ذائقہ اسے پیٹ میں محسوس ہو تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا، بلکہ بعض نے تو یہ بھی کہا ہے کہ اگر برف ہاتھ میں ہو اور اس کی ٹھنڈک پیٹ میں محسوس ہو تو بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا، فقہائے حنابلہ کا قول بھی اسی کے قریب قریب ہے۔

روزہ ٹوٹنے کی بات اگر کی ہے تو فقہائے مالکیہ نے کی ہے ایسی خوشبو سے جو سرایت کر جاتی ہو، لیکن اس بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے، اس طرح کے اختلافات میں اصل مرجع اللہ تعالی کا فرمان ہے: ((اور تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو تو اسے اللہ کہ طرف لوٹاؤ)) [الشوری:۱۰]، اس طرح کے مسئل میں مرجع کتاب اللہ اور سنت رسول ہی ہے، مگر کتاب اللہ، سنت رسول، اجماع سلف، اور قیاس صحیح کسی میں بھی اس طرح کی اشیاء سے روزہ ٹوٹنے کی دلیل نہیں ملتی۔

روزہ دار کیلئے جائز ہے کہ اس طرح کے تیل وغیرہ جن کی سرایت کر جانے والی خوشبو ہو استعمال کرے، چاہے استعمال ناک میں ہو یا یاتھ میں یا بدن کے کسی بھی اور حصہ میں استعمال ہو

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں