فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / رمضان میں انسولین لگانے کا حکم

رمضان میں انسولین لگانے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-03-28 | مناظر : 1014
- Aa +

رمضان میں انسولین لگانے کا کیا حکم ہے؟

استعمال إبرة الأنسولين في رمضان

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

انسولین کا ٹیکہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ یہ ٹیکہ علاج کیلئے ہے جو کہ کھانے یا پینے کا فائدہ نہیں دیتا۔

عمومی طور پر ٹیکے دو قسم کے ہوتے ہیں: علاج کرنے کیلئے، اور غذا کے حصول کیلئے

علاج کیلئے استعمال ہونے والے ٹیکے یا تو مرض کی تخفیف کیلئے استعمال ہوتے ہیں یا کسی مرض کے علاج کیلئے یا بدن میں کسی خاص مواد کی مقدار پوری کرنے کیلئے جو کہ حاجت کی بنیاد پر ہو جیسے انسولین وغیرہ ۔ اس صورت میں حاجت کیوجہ سے کوئی حرج نہیں کہ ان ٹیکوں کا استعمال کیا جائے چاہے یہ جلد پر لگیں یا کسی رگ میں۔

ٹیکوں کی دوسری قسم غذائی ٹیکوں کی ہے اور یہ وہ ہیں جن کی حاجت مریض میں پانی کی کمی یا دیگر علاجی وجوہات کی بنیاد پر استعمال کئے جاتے ہیں، دور حاضر کے جمہور فقہاء کا کہنا ہے کہ ان ٹیکوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور علماء کی ایک جماعت کا یہ کہنا بھی ہے کہ ان ٹیکوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ اس میں نہ تو کھانے کا نہ ہی پینے کا معنی پایا جاتا ہے۔

اوریہی قول زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے کیونکہ غذائی ٹیکوں سے کھانے  پینے کا بعض مقصود تو حاصل ہوتا ہے، مقصود کلی نہیں حاصل ہوتا کیونکہ لوگ صرف غذائیت کیلئے نہیں کھاتے، بلکہ غذائیت کا ساتھ ساتھ، مزے لینے کیلئے بھی کھاتے ہیں، تو جب بعض مقصود حاصل ہوا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کی اس کو بھی اسی کے تحت داخل کر دیا جائے جس سے یہ مقصود حاصل ہو، اسی وجہ سے دونوں اقوال میں سے یہی قول زیادہ راجح ہے اور وہ یہ کہ غذائی ٹیکے روزہ نہیں توڑتے۔

لہذا ٹیکے جس قسم کے بھی ہوں صحیح قول کے مطابق ان سے روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن ایک علمی امانت کے طور پر لازم ہے کہ ہم یہ ذکر کریں کہ دورحاضر کے جمہور علماء کا کہنا یہی ہے کہ علاجی ٹیکوں اور غذائی ٹیکوں کے درمیان فرق ہے۔

راجح یہی ہے کہ ہر طرح کے ٹیکے روزہ نہیں توڑتے چاہے غذائی ہوں یا علاجی

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں