فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / رمضان کا روزہ نہیں رکھا اور مہینہ شروع ہونے کے چار دن بعد انتقال کر گیا

رمضان کا روزہ نہیں رکھا اور مہینہ شروع ہونے کے چار دن بعد انتقال کر گیا

تاریخ شائع کریں : 2017-03-28 | مناظر : 975
- Aa +

ایک مریض جو کہ رمضان کے روزے نہیں رکھ سکا اور مہینہ شروع ہونے کے چار روز بعد انتقال کر گیا تو کیا اس کی طرف سے قضاء کی جائے گی؟

أفطر في رمضان وبعد أربعة أيام من دخول الشهر مات

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

یہ مریض جو کہ دوران رمضان ہی چل بسا اس کی طرف سے باقی ایام کی جن کا وہ ادراک نہ کر سکا بغیر کسی شک و شبہہ کے کوئی قضاء نہیں کی جائے گی، اور وہ دن جن جو رمضان میں اس نے پائے تو سہی مگر روزہ نہ رکھ سکا تو اگر تو مرض ایسا تھا کہ شفایاب ہونے کی امید تھی تو اس پر کوئی قضاء نہیں ؛ کیونکہ اس حال میں قضاء کا نہ ہونا اس وجہ سے ہے کہ اسے موقع ہی نہیں مل سکا، وہ اتنے دن زندہ ہی نہیں رہا جن میں وہ قضا کرتا، اب اگر کوئی اس کی طرف سے قضاء کر بھی دے تو کوئی حرج نہیں لیکن یہ کسی پر بھی واجب نہیں اور نہ ہی یہ واجب ہے کہ اس کی طرف سے کھانا کھلائے کیونکہ یہ ایسا مرض تھا جس کی وجہ سے اس کیلئے روزہ نہ رکھنا مباح ہو گیا تھا اور اتنی مدت زندہ نہ رہ سکا کہ اس کی قضاء کرتا۔

اور اگر یہ ایسا مرض تھا جس سے خلاصی کی کوئی امید نہیں تھی تو اس صورت میں اس پر کوئی قضاء تو نہیں تھی البتہ اطعام یعنی کھانا کھلانا لازم تھا اور یہ کھانا کھلانے کی صورت میں کفارہ ہر دن کی طرف سے ہے ، ارشاد باری تعالی ہے((اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا کر(روزے کا) فدیہ ادا کریں)) [البقرہ:۱۸۴] اور حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: {یہ آیت منسوخ نہیں، یہ تو بوڑھے مرد یا بوڑھی عورت کے بارے میں ہے جو نہ تو روزہ رکھ سکتے ہوں اور نہ ہی قضاء کی استطاعت رکھتے ہوں تو وہ روزہ نہ رکھیں کھانا کھلا دیں} ۔

اور حضرت انسؓ سے صحیح میں مروی ہے کہ جب وہ عمر رسیدہ ہو گئے اور روزے کی طاقت نہ رہی تو وہ ہر ایک دن کی طرف سے ایک مسکین کو کھانا کھلاتے تھے

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں