×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / روزه اور رمضان / میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-04-08 09:19 AM | مناظر:1988
- Aa +

اگر میت پر روز ے ثابت ہو جائیں تو کیا میت کی طرف سے اس کے ولی روزہ رکھ سکتے ہیں یا میت کے رشتہ دار آپس میں وہ روزے تقسیم کرسکتے ہیں؟

ثبت على الميت الصوم فهل يصوم عنه وليه أو يتقاسم أقاربه الصيام

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الٰہی آ پ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

ولی ہی رشتہ دار ہوتاہے اور یہ بیٹا، بھائی، بہن اور باپ کو شامل ہے ، اور یہ ممکن ہے کہ وہ آپس میں روزے تقسیم کریں ، سوائے ان روزوں کے جن میں پے درپے روزے رکھنے ہوں جیسا کہ دو ماہ کے لگاتار روزے ، اس صورت میں وہ آپس میں روزے تقسیم نہیں کرسکتے ، اس لئے کہ اس طرح کرنے سے وہ تتابع فوت ہوجائے گی ، اور اگر رمضان یا اس طرح کے اور روزے ہوں تو پھر آپس میں دنوں کو تقسیم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

اور اہلِ علم کی ایک جماعت کا تتابع کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر ایک شخص پے درپے ایک مہینہ روزے رکھ لے اور پھر دوسرا شخص پے درپے ایک مہینہ روزے رکھ لے تو اس طرح بھی جائز ہے اس لئے کہ دوماہ کے روزے لگاتار دو شخصوں سے حاصل ہوگئے ۔


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں