فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / جھوٹی گواہی کیا ہے؟ کیا اس سے روزہ ٹوٹتا ہے؟

جھوٹی گواہی کیا ہے؟ کیا اس سے روزہ ٹوٹتا ہے؟

تاریخ شائع کریں : 2017-04-08 | مناظر : 1469
- Aa +

جھوٹی گواہی کیا ہے؟ اور کیا اس سے روزہ ٹوٹتا ہے؟

ما هي شهادة الزور؟ وهل تبطل الصوم؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اس سؤال کے دو حصے ہیں، پہلے حصے کا تعلق شہادت زور یعنی جھوٹی گواہی کی حقیقت سے ہے:

جھوٹی گواہی کا مطلب ہے غلط گواہی دینا، وہ یہ کہ حق کے خلاف خبر دینا اور یہی جھوٹی گواہی کا عام مطلب ہے، اگر حق کے خلاف خبر دینا اپنے لئے کسی منفعہ کے حصول کیلئے ہو یا کسی اور کو ضرر پہنچانے کیلئے ہو تو یہ بھی جھوٹی گواہی کے معنی و اسباب میں آتا ہے۔

جھوٹی گواہی ان امور میں سے ہے جن سے اللہ تعالی نے مؤمنین کو پاک کیا ہے فرمان ہے: ((اور وہ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے)) [الفرقان: ۷۲]۔ یہاں پر جھوٹی گواہی باطل گواہی کو شامل ہے اور اسی میں شر اور فساد والی جگہوں پر جانا بھی شامل ہے یہ آیت اسی پر دلالت کر رہی ہے۔

اور جہاں تک اس جھوٹی گواہی کا تعلق ہے جس سے حقوق منقطع ہوتے ہیں: تو وہ خلاف واقع خبر دینا ہے یا تو کسی فائدے کے حصول کیلئے یا کسی ضرر کو دور کرنے کیلئے یا کسی اور سبب کی وجہ سے، نبینے اسے سب سے بڑے کبیرہ گناہ میں شمار کیا ہے، جب آپ نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا، کسی کو قتل کرنے کا اور والدین کی نا فرمانی کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ((خبردار ہو جاؤ جھوٹی گواہی کے بارے میں،خبردار ہو جاؤ جھوٹی گواہی کے بارے میں،خبردار ہو جاؤ جھوٹی گواہی کے بارے میں)) آپ بات ٹیک لگائے بیٹھے ارشاد فرما رہے تھے، تو جب جھوٹی گواہی کا ذکر کیا تو اس کے خطرہ اور اہمیت کی وجہ سے سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور بار بار کہنے لگے یہاں تک کہ جب صحابہ نے آپ کی طبیعت میں اس قدر انفعال دیکھا تو تمنا کرنے لگے کی آپ سکوت فرما لیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ صحابہ اس تنبیہ کو نا پسند کرتے تھے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ صحابہ ؓ اس تکرار اور تنبیہ کو ناپسند کر رہے تھے، نہیں ایسا بالکل نہیں ماجرا تو یہ تھا کہ صحابہ پر آپ کی یہ تنبیہ کرنے کی انفعالی کیفیت نہایت شاق گزر رہی تھی، آپ کی عام عادت تھی کہ صبح شام تنبیہ فرمایا کرتے تھے۔

اور جہاں تک جھوٹی گواہی کا روزے پر اثر پڑنے کا تعلق ہے، تو بے شک جھوٹی گواہی اعلی درجے کا جھوٹ ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ((اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کر دئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی اختیار کر لو)) [البقرہ:۱۸۳] یعنی اس وجہ سے فرض کئے گئے ہیں کی تم تقوی اختیار کرو، اور یہ بات تو معلوم ہے کہ جھوٹی گواہی دینے سے انسان تقوی کی حدود سے باہر نکل جاتا ہے اور تقوی والی صفات سے کوسوں دور ہو جاتا ہے۔

صحیح بخاری میں ابو ہریرہؓ کی حدیث ہے کہ آپ نے فرمایا: ((جس نے جھوٹ کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے)) جھوٹ کہنے سے مراد باطل بات ہے جس میں سب سے اوپر جھوٹی گواہی دینا ہے، اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس نے غلط بات جو باطل پر مبنی ہو جس میں جھوٹی گواہی بھی آتی ہے نہ چھوڑی تو اس نے روزے سے جو مقصود ہے وہ پورا نہ کیا کیونکہ روزے سے غرض یہی ہے کہ شر اور فساد سے بچا جائے کیونکہ (( روزہ ڈھال ہے)) جیسا کی نبی نے ابو ہریرہؓ کی حدیث میں فرمایا اور جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان مبارک بھی ہے جو کی پیچھے بھی ذکر کیا: ((اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کر دئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی اختیار کر لو)) [البقرہ:۱۸۳]

اگر روزہ دار کھانے ، پینے اور جماع سے تو رک جائے مگر اپنے اعضاء و جوارح کو کھلا چھوڑ دے اور محرمات کا ارتکاب کرتا پھرے تو اس نے روزے کی غرض اور اس کا مقصود حاصل نہیں کیا، مقصود تو یہ ہے کہ انسان ان چیزوں سے دور رھے جن کو اللہ نے اس کیلئے حرام قرار دیا ہے، چاہے وہ ایسے امور ہوں جو عام طور پر تو اس کیلئے مباح ہیں مگر اس خاص وقت کیلئے حرام کئے گئے ہیں یا ایسے امور ہوں جو کلی طور پر حرام ہیں جیسے غیبت، جھوٹی گواہی، جھوٹ، حرام اشیاء کا سننا اور حرام کی طرف دیکھنا وغیرہ، کیونکہ آپ کا حدیث میں یہ کہہ دینا ((جھوٹ کہنا اور اس پرعمل کرنا)) اس میں سب شامل ہے۔

اور جہاں تک اس کا روزے پر اثر انداز ہونے کا تعلق ہے تو بے شک اجر میں تو کمی ہوتی ہے کیونکہ جس نے روزہ رکھا اور اس کی حفاظت بھی کی تو اس کا روزہ اس شخص کے روزے سے مختلف ہے جس نے مختلف معاصی اور گناہوں کے ذریعے روزے کو نقصان پہنچایا، تو اس نے ایسا کام کیا جو کہ روزے کے مقصد کے خلاف ہے۔

کیا معاصی کے ارتکاب سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟ جمہور علمائے امت اور مذاہب اربعہ کے عام فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ معصیت کا ارتکاب روزے کو فاسد نہیں کرتا، لہذا غیبت، چغلی، چوری، حرام کی طرف دیکھنا یا حرام سننا اور باطل طریقے سے مال کھانا یہ سب روزے پر اثر انداز نہیں ہوتے اور ان سے روزہ نہیں ٹوٹتا، ہاں اجر میں ان افعال کی وجہ سے کمی ضرور آتی ہے کیونکہ ارتکاب معصیت کی وجہ سے روزے کا مقصود حاصل نہ ہو سکا۔

امام ابن حزم اور اہل علم کی ایک اور جماعت کا کہنا یہ ہے کہ روزہ دار نے اگر کسی حرام فعل کا ارتکاب کیا یا واجب چھوڑا تو اس کا روزہ ایسے ہی فاسد ہے جیسے کھانے پینے سے فاسد ہوتا ہے اور ان حضرات نے استدلال بخاری میں مذکور ابوہریرہؓ کی حدیث سے کیا ہے: "جس نے جھوٹ کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے"۔

اور کیا معصیت والی جگہوں پر جانا قول زور کے تحت آتا ہے؟

اگر یہ جانا معصیت کے مشاہدہ کہ وجہ سے ہو تو یہ عمل زور (باطل عمل) میں آتا ہے نہ کہ قول زور میں کیونکہ جانا عمل ہے قول نہیں ۔ لیکن اس کی نوعیت کچھ مختلف ہوتی ہے، اگر مشاہدہ کیلئے، شرکت کرنے کیلئے یا یہ غلط عمل کرنے کیلئے گیا تو یہ سب عمل زور میں شامل ہے جس کو اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہے، اور اگر یہ جانا اس لئے ہو کہ اس منکر کو ختم کر دے تو یہ اس طاعت میں آتا ہے جس کو اللہ تعالی نے مؤمنین کی خصوصی صفات میں مندرج کیا ہے، فرمان باری تعالی ہے: ((مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں یہ ایک دوسرے کے معاون ہیں، نیکی کا حکم کرتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکاۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا)) [التوبہ:۷۱] اور آپ کا فرمان ہے: ((تم میں سے جو کسی منکر(گناہ )کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے اور اگر اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہوتو اپنے دل سے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے)) یہ حدیث صحیحاََ ابو سعید الخدریؓ سے مروی ہے۔

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں