فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / دوران روزہ آنکھ ، ناک یا کان میں قطرہ ڈالنا

دوران روزہ آنکھ ، ناک یا کان میں قطرہ ڈالنا

تاریخ شائع کریں : 2017-04-08 | مناظر : 1706
EN
- Aa +

روزے کے دوران آنکھ، ناک یا کان میں قطرہ ڈالنے کا کیا حکم ہے؟

قطرة الأنف والعين والأذن أثناء الصوم؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

آنکھ، ناک یا کان میں قطرے سے متعلق در حقیقت تین مسائل ہیں:۔

پہلا مسئلہ: ناک میں قطرے ڈالنا اور یہ مرض کے علاج کیلئے، کسی تکلیف کو ختم کرنے کیلئے یا کسی اور طبی ضرورت کیلئے ڈالے جاتے ہیں، اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ اگر کوئی قطرہ بھی جوف تک پہنچ گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور انہوں نے دلیل مسند اور سنن میں مذکور لقیط بن صبرہ کی روایت کو بنایا یے کہ نبی نے فرمایا: ((استنشاق [یعنی ناک میں پانی ڈالنا] اچھی طرح کرو سوائے اس حالت کے کہ تم روزے سے ہو)) اور یہ اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ اگر ناک کے ذریعے جوف میں کچھ جانے کا خدشہ ہو تو اس سے بچنا واجب ہے، جمہور کا قول یہی ہے۔

اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ اگر حاجت کی بنا پر ناک میں قطرے ڈال لئے تو جوف میں چلے جانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا اور دلیل ان کی یہ ہے کہ یہ قطرے نہ تو کھانے پینے کے تحت آتے ہیں اور نہ ہی اس کے معنی میں۔

دوسری دلیل یہ بھی دیتے ہیں کہ جو جوف میں جاتا بھی ہے وہ بہت کم مقدار میں ہے اور وہ ایسے ہی ہے جیسے کلی کرتے وقت کچھ پانی منہ کے اند لگ جاتا ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ کلی کے اثر سے بالاتفاق روزہ نہیں ٹوٹتا، نص سے بھی یہی ثابت ہے۔

تیسری دلیل یہ کہ یہ قطرے حاجت کی بنا پر ڈالے جاتے ہیں اور انسان کو حاجت لاحق ہونا کوئی بعید نہیں ، روزے میں اصل بھی صحت ہی ہے لہذا ہم منع نہیں کر سکتے، لیکن ہم اتنا ضرور کہتے ہیں کہ ناک میں استنشاق میں مبالغے سے بچے، تو یہ جواز کا کہنے والوں کے دلائل ہیں۔

روزہ ٹوٹنے کا موقف رکھنے والے لقیط بن صبرہ کی روایت سے ہی استدلال کرتے ہیں: ((استنشاق [یعنی ناک میں پانی ڈالنا] اچھی طرح کرو سوائے اس حالت کے کہ تم روزے سے ہو)) تو یہ کہتے ہیں کہ یہ روایت اس پر دال ہے کہ اس سے روزہ ٹوٹ جائیگا ورنہ نبیاستنشاق میں مبالغہ کرنے سے منع نہ فرماتے۔

اور روزہ نہ ٹوٹنے کا موقف رکھنے والے جواب یہ دیتے ہیں کہ ناک کے راستے جو جوف میں چلا گیا اور وہ عمداََ نہیں بلکہ مغلوب ہو کر گیا تو یہ حضرات کہتے ہیں کہ نبی نے مبالغہ کرنے سے منع فرمایا ہے ، روزہ ٹوٹنے کا حکم نہیں لگایا فرمایا: ((استنشاق [یعنی ناک میں پانی ڈالنا] اچھی طرح کرو سوائے اس حالت کے کہ تم روزے سے ہو)) اور یہ نہیں کہا اگر تمہارے جوف میں کچھ پہنچ گیا تو تمہارا روزہ ٹوٹ گیا ، یہ بڑی قوی توجیہ ہے جو کہ اہل علم کی ایک جماعت نے ذکر کی ہے جس میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ بھی شامل ہیں۔

ان دونوں اقوال میں سے راجح یہ ہے کہ اگر قطرے ڈالنے کی ضرورت پڑے تو مبالغہ کئے بغیر ڈال سکتا ہے اگر کچھ جوف تک پہنچ بھی گیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا یہ بھی استنشاق ہی کی طرح ہے، نبینے روزہ دار سے یہ نہیں فرمایا کہ استنشاق نہ کرو بلکہ فرمایا: ((استنشاق [یعنی ناک میں پانی ڈالنا] اچھی طرح کرو سوائے اس حالت کے کہ تم روزے سے ہو)) یعنی مبالغہ نہ کرو، اسی طرح ان قطرات میں بھی یہی حکم ہے کہ مبالغہ نہیں کرے گا اور اگر کسی ضرورت کی بنا پر مبالغہ کر بھی لیا تو چاہئیے کہ نگلنے سے پرہیز کرے اب اگر مغلوب ہو گیا اور کچھ اس کے جوف میں چلا بھی گیا تو کوئی حرج نہیں روزہ اس کا صحیح ہے ، یہ تو تھا ناک میں قطرہ ڈالنے سے متعلق۔

اور جہاں تک آنکھ اور کان میں قطرے ڈالنے کا تعلق ہے تو جمہور علماء کا یہی کہنا ہے کہ اگر آنکھ کے راستے بھی جوف تک چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا لیکن اس قول پر کوئی دلیل نہیں ہے، اگر پیٹ تک ناک کے راستے گیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا جیسے پیچھے بات گزری تو یہی حکم آنکھ اور کان کے بارے میں بھی ہے، لہذا صحیح یہی ہے کہ آنکھ، کان اور ناک میں قطرے ڈالے جاسکتے ہیں اور اگر مغلوبیت کی کیفیت میں کچھ جوف تک پہنچ بھی جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں، لیکن خاص طور پے ناک کے بارے میں مبالغے سے بچنا چاہئیے آپ کے قول پر عمل کرتے ہوئے ((استنشاق [یعنی ناک میں پانی ڈالنا] اچھی طرح کرو سوائے اس حالت کے کہ تم روزے سے ہو))۔

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں