فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / جس نے رات کو روزے کی نیت نہ کی ہو

جس نے رات کو روزے کی نیت نہ کی ہو

تاریخ شائع کریں : 2017-04-08 | مناظر : 950
- Aa +

جس نے رات کو روزے کی نیت نہ کی ہو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا قضاء لازم آئے گی؟

من لم يبيت نية الصوم من الليل

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

صورت مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو دن کے وقت خبر ہو کہ رمضان شروع ہو چکا ہے، تو اس صورت میں میرے علم کے مطابق تو اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس پر واجب ہے کہ باقی دن کچھ کھائے پئے نہیں، اختلاف اس روزے کے معتبر ہونے کے بارے میں ہے کہ کیا اس کا اعتبار کیا جائے گا کہ قضاء لازم نہ آئے، یا پھر قضاء کرنی ہو گی؟

جمہور علماء کا کہنا یہ ہے کہ اس صورت میں قضاء واجب ہو گی کیونکہ اس نے روزے کی نیت دن کے ابتداء سے نہیں کی، نبیؐ کا فرمان ہے جیسا کہ سنن میں حفصہؓ کی حدیث ہے: ((جس نے رات کو ہی روزے کی نیت نہ کی اس کا کوئی روزہ نہیں)) اور عائشہؓ کی حدیث میں ہے: ((جس نے رات سے ہی روزے کو نہ تھاما اس کا کوئی روزہ نہیں)) یہ اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ رات سے ہی روزے کی نیت کر لینا واجب ہے اس روزے کیلئے جو واجب ہو اور یہی جمہور علماء کا قول ہے اور اس بنیاد پر اس پر قضاء بھی واجب ہو گی۔

جو علماء قضاء کے عدم وجوب کے قائل ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ روزہ تب تک معلوم نہیں جب تک اس کی نیت نہ کر لے اور واجب اسی پر ہوگا جو نیت کرے گا کیونکہ مکلف ہونا علم کے بعد ہوتا ہے اور اس مسئلہ میں اسے اگلے روز دن کے وقت پتہ چلا جس کی وجہ سے وہ تب ہی نیت کرے گا جب اسے پتہ چلے گا اور اس پر لازم نہیں کہ اس سے پہلے رات سے ہی نیت کرے کیونکہ اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ رمضان میں ہے یا نہیں اور اسی وجہ سے ان علماء کا کہنا ہے کہ اس پر قضاء واجب نہیں اور امساک واجب ہے۔

بلکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ تو اس سے بھی زیادہ بعید بات کرتے ہیں، اور وہ یہ کہ اگر اس نے پورا دن بھی گزار دیا اور رمضان کا اس دن کے غروب آفتاب کے بعد پتہ چلا تو بھی اس پر اس دن کی قضاء واجب نہیں، یہ قول جمہور کے خلاف ہے کہ اس پر قضاء واجب ہو گی اس دن کے روزہ کے فوت ہو جانے کی وجہ سے۔

یہ مسئلہ اس مسئلہ کے ساتھ مربوط نہیں کہ کیا رات سے نیت کرنا واجب ہے یا صرف ابتدائے مہینہ ہی میں نیت کر لینا کافی ہو گا، کیونکہ اس نے اصلاََ نیت ہی نہیں کی نہ ہی پورے مہینہ کی اور نہ ہی اس مخصوص دن کی، جبکہ اس کو رمضان کے مہینہ کی آمد کا اگلے روز دن کے وقت ہی پتہ چلا ہے تو اس نے دن سے ہی نیت کر لی، اسی وجہ سے یہ مسئلہ علماء کے اختلاف کے ذیل میں نہیں آتا کہ کیا ہر دن کی مستقل نیت کرنی واجب ہے یا ابتدائے رمضان کی نیت ہی کافی ہے جب تک کوئی مانع نہ ہو؟ علماء کے اس مسئلہ میں دو قول ہیں: اہل علم میں سے بعض ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اس دن کی علیحدہ نیت کرنا ضروری ہے اور جمہور کا مذہب بھی یہی ہے، اور امام مالکؒ کا مذہب یہ ہے کہ ابتدائے مہینہ میں ہی نیت کافی ہے جب تک روزہ نہ رکھے کا مانع موجود نہ ہو، چاہے یہ روزہ نہ رکھنا اجازت کے ساتھ ہو یا بغیر اجازت کے

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں