فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / روزہ کو توڑنے والی اشیاء کون کون سی ہیں؟

روزہ کو توڑنے والی اشیاء کون کون سی ہیں؟

تاریخ شائع کریں : 2017-04-08 | مناظر : 1763
- Aa +

روزہ کو توڑنے والی اشیاء کون کون سی ہیں؟

ما هي مفسدات الصوم؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

روزے کے مفسدات میں اللہ تعالی کے کلام میں نص صریح وارد ہوئی ہے، ارشاد باری تعالی ہے: ((چنانچہ اب تم ان سے صحبت کر لیا کرواور جو کچھ اللہ نے تمہارے لئے لکھ رکھا ہے اسے طلب کرو اور اس وقت تک کھاؤ پیو جب تک صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ممتاز ہو کرتم پر واضح نہ ہو جائے، اس کے بعد رات آنے تک روزے پورے کرو)) [البقرہ:۱۸۷] یہ آیت کریمہ تین امور پر دلالت کر رہی ہے جن سے روزہ ٹوٹتا ہے: عورتوں کے ساتھ جماع، کھانا اور پینا۔ اس آیت میں مفطرات (مفسدات) کے اصول بیان کئے گئے ہیں، یعنی وہ اسباب جن سے بچنا صائم کیلئے واجب ہے، اور یہ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی حدیث صحیح میں بھی آیا ہے: "اللہ تعالی فرماتے ہیں: روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزاء دوں گا، آدمی کھانا، پینا اور اپنی شہوت میرے لئے چھوڑتا ہے" یہ حدیث اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ آدمی کو ان تین امور سے منع کیا گیا ہے، اور یہ محل اتفاق ہے اور علماء میں کوئی اختلاف نہیں اس بات میں کہ صائم پر کھانا ، پینا اور جماع حرام ہے۔

ان تین امور کے ساتھ ساتھ جو کہ متفق علیہ ہیں ایک چوتھی چیز بھی ہے اور وہ یہ کہ عمداََ جوف (پیٹ) سے کچھ باہر نکالنا، اس کو قے (الٹی) کہا جاتا ہے اور اس کے بارے مین سنن میں ایک حدیث بھی وارد ہوئی ہے اور امام احمد کے ہاں ہشام عن محمد بن سیرین عن ابی ہریرہؓ کے طریق سے حدیث آئی ہے کہ نبیؐ نے فرمایا: "جس کو خود قے آجائے اس پر قضاء نہیں" یعنی اپنے اختیار کے بغیر آجائے تو اس پر قضاء لازم نہیں، اور "جو خود قے کرے" یعنی اپنے اختیار سے الٹی کرے تو "اس پر قضاء ہے" یہ حدیث دو حالتوں کے درمیان تفریق پر دلالت کر رہی ہے، اور ابن المنذر، ابن عبد البر، اور اہل علم کی ایک جماعت نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ جس نے عمداََ پیٹ میں سے کچھ نکالا یعنی الٹی کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا اور اس بنیاد پر متفق علیہ مفسدات چار ہو جاتے ہیں۔

اس چوتھے سبب افطار کے ساتھ پانچواں سبب ملا لیں جو کہ عورت کے ساتھ خاص ہے یعنی کہ حیض اور نفاس۔ عورت کو اگرحیض آجائے چاہے دن کے پہلے حصے میں ہو یا آخری حصے میں یا دن کے کسی بھی پہر میں ہو، یہ بھی مفسدات صوم میں میں سے ہے، یعنی اس پر واجب ہے کہ اس دم کی قضاء کرے اور ایسے دن میں اس کا روزہ کسی حالت میں بھی ٹھیک نہیں، حیض کے ساتھ نفاس بھی ہے جو کہ مفطرات میں سے ہے۔

یہ جو پانچ اسباب فطر ہیں یہ اہل علم کے درمیان متفق علیہ ہیں، اور بعض ایسے اسباب ہیں جو کہ مختلف فیہ ہیں اور ان ائمہ کا اختلاف مضبوط ہے یا ضعیف، تو ان اسباب میں سے مثال کے طور پر حجامہ ہے ، جمہور علماء کا کہنا ہے کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور امام احمد، امام اسحاق اور اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور ان کے اس اختلاف کا منشأ رسول اللہؐ سے مروی احادیث کا تعارض ہے، حضرت ثوبان و دیگر کی روایت میں آیا ہے: ((حجامہ لگانے والا اور لگوانے والا دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا)) اور صحیح بخاری میں ابن عباس کے طریق سے حدیث ہے: ((نبیؐ نے حجامہ لگوایا اس حالت میں کہ وہ روزہ سے تھے)) تو خبر کا فعل سے تعارض ہو گیا، اہل علم میں سے بعض ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ فعل قول کیلئے ناسخ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ فعل قول کیلئے مخصص ہے اور دلالت کر رہا ہے کہ آپؐ کا یہ کہنا کہ ((ان کا روزہ ٹوٹ گیا)) سے مراد ہے کہ قریب تھا کہ ٹوٹ جاتا، مقصود یہ نہیں کہ روزہ فاسد ہو گیا، بلکہ اس کا روزہ صحیح ہے اور اس حالت میں حجامہ مکروہ ہے۔

اہل علم میں سے بعض نے کہا ہے کہ ابن عباس ؓ کی روایت جس میں آپؐ کے حجامہ لگوانے کا ذکر ہے غیر محفوظ ہے جس کی بنیاد پر ان متعدد احادیث کو لیا جائے گا جن میں آپؐ نے فرمایا: ((حجامہ کرنے والے اور کروانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا))۔

یہ ایک نمونہ تھا ان اسباب فساد کا جن میں اہل علم کا اختلاف پایا جاتا ہے۔

اسی طرح مختلف فیہ اسباب میں سے ایک سبب منی کا شہوت کے ساتھ بغیر جماع کے نکلنا بھی ہے، بعض اہل علم کے ہاں اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا جن میں ظاھریہ میں سے ابن حزم شامل ہیں اور وہ رائے جو امت کی اکثریت کی اختیار کردا ہے اور عام اہل علم ، جمہور فقہاء کا قول بھی یہی ہے کہ: منی کا شہوت کے ساتھ نکالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے دلیل حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث ہے جو کہ صحیحین میں مذکور ہے کہ نبیؐ نے فرمایا: ((اللہ تعالی کہتے ہیں کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دوں گا آدمی اپنا کھانا ، پینا اور شہوت میرے لئے چھوڑتا ہے)) تو اس میں شہوت کا ذکر کرنا بالاجماع جماع کو شامل ہے اور اس میں جماع کے علاوہ بھی شہوت کو پورا کرنا ہے اور اسی وجہ سے صحیحین میں حضرت عائشہؓ کی حدیث آئی ہے کہ وہ فرماتی ہیں: ((نبیؐ روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے،اور روزے کی حالت میں مباشرت کرتے تھے لیکن وہ تم سب میں سب سے زیادہ اپنے اوپر کنٹرول رکھنے والے تھے)) یہ اس بات پر دال ہے کہ روزہ انزال سے متأثر ہوتا ہے، اگر بوسہ لینے سے یا مباشرت کرنے سے انزال ہو جاتا اگرچہ جماع نہ کیا، مگر عائشہؓ نے واضح کر دیا کہ آپؐ اپنے آپ پر قابو رکھنے والے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے جس سے ان کا روزہ فاسد ہو جائے، بوسہ یا مباشرت کی وجہ سے، یہی رائے امت کہ جمہور علماء کی ہے۔

یہ دو مثالیں ان مسائل میں سے تھیں جو مفسدات صوم میں شمار ہوتے ہے اور یہ اختلافی مسائل تھے جن میں علماء کے دو اقوال موجود تھے۔

اب اگر ہم مزید دیگر مسائل پر بات کرنے لگیں تو بہت سے مسائل ہیں جن کے بارے میں لوگ کثرت سے سؤالات کرتے ہیں کہ کیا یہ مفطرات میں سے ہے یا نہیں جیسے خون نکالنا، غذائی اور علاجی ٹیکے، سپرے وغیرہ کا استعمال یا ان آلات کا استعمال جن سے جسم کے اندر دیکھا جاتا ہے منہ کے راستے ہو یا سرین کے راستے، یا پھر علاجی بتی ہو جو سرین میں علاج کیلئے استعمال ہوتی ہے، تو یہ سارے مسائل اس سؤال کو جنم دیتے ہیں کہ ان سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں۔ 

لیکن میں مختصراََ یہ کہنا چاہوں گا: کوئی بھی چیز جس کے اوپر یہ حکم لگایا جائے کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس کیلئے دلیل کا ہونا لازمی ہے۔

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں