فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / صرف ہفتے کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم

صرف ہفتے کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-04-08 | مناظر : 2661
- Aa +

صرف ہفتے کے دن کا روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟

حكم إفراد يوم السبت بصيام

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اگر یہ ہفتے کے دن کا روزہ ایسا نفلی روزہ ہو جو مقید ہو جیسے اگر عرفہ یا عاشوراء کے دن اتفاقی طور پر آ گیا ہو یا مطلقا صرف ہفتے کے دن کا روزہ ہو تو اہل علم کا اس میں اختلاف ہے، جو کہ تین اقوال ہیں:

پہلا قول: نفلی طور پر صرف ہفتے کے دن کا روزہ رکھنے میں کوئی کراہت نہیں اور یہ قول اکثر اہل علم کا ہے جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے فرمایا۔ اقتضاء الصراط المستقيم [۲/۷۱]

دوسرا قول: نفلی طور پر صرف ہفتے کے دن کا روزہ رکھنا مکروہ ہے، اور یہ قول احناف، مالکیہ، شافعہ اور حنابلہ کا ہے۔

تیسرا قول: نفلی طور پر صرف ہفتے کے دن کا روزہ رکھنا حرام ہے اور یہ مفہوم شوکانیؒ کے کلام سے ملتا ہے کیونکہ ان کے ہاں نہی کی حقیقت حرمت ہی ہے جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب وبل الغمام [۱/۵۱۳] میں صراحت کی ہے ، صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے کی نہی کے بارے میں۔

جن حضرات نے کراہت یا حرمت کا کہا ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے جو ابو داؤد(۲۴۲۱) اور ترمذی (۷۴۴) نے خالد بن معدان عن عبد اللہ بن بسر السلمی عن الصماء بنت بسر کے طریق سے روایت کی ہے کہ نبی نے فرمایا: "ہفتے کے دن کا روزہ نہ رکھو مگر وہ جو تم پر فرض کیا گیا ہو، اگر تم میں سے کسی کو انگور کے خالی خوشے یا درخت کی ٹہنی کے سوا کچھ بھی نہ ملے تو اسی کو چبا ڈالے" اس حدیث پر اشکال یہ ہے کہ عام اہل حدیث حضرات کا کہنا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اس سے حجت نہیں پکڑی جا سکتی اور سب سے شدید جرح جو اس بارے میں وارد ہوئی ہے وہ ہے جو امام ابو داؤد نے سنن میں کی ہے امام مالک سے روایت کرتے ہوئے کہ انہوں اس حدیث کے بارے میں کہا کہ یہ جھوٹ ہے، [سنن أبي داود:۲۴۲۶] ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث منسوخ ہے، انہوں نے ناسخ کی وضاحت نہیں کی، جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ نسخ میں تأریخ کی معرفت بہت ضروری ہے۔

ان تمام اقوال میں راجح یہ ہے کہ صرف ہفتے کے دن کا روزہ رکھنا جائز ہے کیونکہ جس حدیث میں نہی وارد ہوئی ہو وہ حدیث ضعیف ہے اور اس میں اضطراب ہے ، دلیل کے لئے درست نہیں، جیسا کے اس کے لفظ میں بھی اشکال ہے اور وہ یہ کی اس کے الفاظ اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ ہفتے کے دن کا کسی بھی قسم کا نفلی روزہ حرام ہونا چاہئیے، کیونکہ اس میں فرض روزے کے علاوہ کسی بھی قسم کے روزے کا استثناء نہیں کیا گیا، اور یہ بہت سی ایسی صحیح احادیث کے خلاف ہے جو ہفتے کے دن کے روزے کے جواز پر دلالت کر رہی ہیں ، صرف ہفتے کے دن کا ہو یا ساتھ کسی دوسرے دن کا ملا کر ہو، ان احدیث میں سے ایک یہ ہے کہ آپنے جویریہ سے کہا جب انہوں نے آپ کو یہ بتایا کہ وہ جمعہ کے دن روزے سے ہیں: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ کہنے لگیں: نہیں، فرمایا: کیا کل روزہ رکھو گی؟، کہنے لگیں : نہیں، تو آپنے انہیں افطار کا حکم دیا، اور یہ حدیث بخاری [۱۹۸۶] میں ہے۔

اور صحیحین میں ابو ہریرہؓ کی حدیث ہے: "تم میں سے کوئی بھی جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے مگر اس صورت میں کہ یا تو اس سے پہلے ایک دن روزہ رکھے یا اس کے بعد"۔

اس کا ایک شاہد امام نسائی نے بھی ذکر کیا ہے کہ ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکثر ہفتے کے دن کا اور اتوار کے دن کا روزہ رکھتے تھے اور فرماتے: ((یہ دو دن مشرکین کی عید کے دن ہیں اور میں ان کی مخالفت کرنا چاہتا ہوں))، اس حدیث کو بہت سے محدثین نے صحیح قرار دیا ہے جن میں ابن حبان، ابن خزیمہ، ذہبی اور ابن قطان شامل ہیں۔

اس حدیث سے صنعانیؒ نے ہفتے کے دن کے روزے کے استحباب کو اخذ کیا ہے، صرف ہفتے کے دن کا ہو یا ساتھ دوسرا دن ملا کر ہو، [سبل الاسلام] میں اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں "اور حدیث باب دلالت کر رہی ہے کہ ہفتے کے دن کا روزے مفرداََ بھی مستحب ہے" تو اس مسئلہ میں یہ گویا کہ چوتھا قول ہو گیا۔

جو کچھ بھی بات گزری اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ حدیث جس میں صرف ہفتے کے دن کا روزہ رکھنے کے بارے میں نہی آئی ہے، وہ حدیث دلیل کے طور پر ٹھیک نہیں ہے، لہذا یہ روزہ جائز ہو گا، واللہ اعلم۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

14/03/1425هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں