فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / جو شخص اکثر نمازوں میں سوتا رہتا ہے اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟

جو شخص اکثر نمازوں میں سوتا رہتا ہے اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟

تاریخ شائع کریں : 2017-04-08 | مناظر : 1225
- Aa +

جو شخص ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں کے اوقات میں سوتا رہے اس کے روزے کا کیا حکم ہے، وہ ان تمام فرض نمازوں کو رات بارہ بجے اکٹھے ادا کر لیتا ہے اور اپنے وقت میں فجر اور عشاء کی نماز کبھی کبھار ادا کرتا ہے اس کے علاوہ کوئی نماز نہیں؟ تو ایسے شخص کیلئے آپ کی کیا نصیحت ہے؟

ينام عن معظم الصلوات فما حكم صيامه؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

ایسے شخص کے روزے تو صحیح ہیں مگر اس کو چاہیئے کہ اپنے وقت پر نماز ادا کرنے کی بھر پور کوشش کرے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ((تمام نمازوں کا پورا پورا خیال کرو اور خاص طور پر بیچ کی نماز کا اور اللہ کے سامنے با ادب فرمانبردار بن کر کھڑے ہوا کرو)) [البقرہ:۲۳۸]، ایک اور جگہ فرمایا: ((بے شک نماز مسلمانوں کیلئے ایک ایسا فریضہ ہے جو اوقات کا پابند ہے)) [النساء:۱۰۳]، جو کوئی بھی بغیر کسی عذر کے نماز کو وقت پر ادا نہ کرے تو وہ اس وعید میں داخل ہے جو کہ اللہ تعالی نے بیان فرمائی: ((ہلاکت ہے ان نماز پڑھنے والوں کیلئے جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں)) [الماعون:۴،۵]

اور جہاں تک روزے کی بات ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کے روزے میں اجر کی کمی کر دی جاتی ہے کیونکہ نبی نے فرمایا جیسا کہ ابو ہریرہؓ سے بخاری کی حدیث میں مروی ہے: ((جس نے جھوٹ کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا ترک کرے))، تو نماز کا بغیر کسی عذر کے مؤخر کر دینا عمل بالزور (جس کا حدیث میں ذکر ہے) میں سے ہے لہذا یہ شخص اللہ سے ڈرے اور نمازوں کو وقت پر ادا کرنے کی پابندی کرے، البتہ فی نفسہ روزے اس کے ٹھیک ہیں۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

15/12/1424هـ

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں