فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / نفلی روزوں کی نیت سے متعلق سؤال

نفلی روزوں کی نیت سے متعلق سؤال

تاریخ شائع کریں : 2017-04-08 | مناظر : 1672
- Aa +

ہمارے علم میں تو یہ تھا کہ نفلی روزوں میں رات ہی سے نیت کا استحضار شرط نہیں ہے بلکہ جب انسان چاہے روزے کی نیت کر سکتا ہے لیکن بعض ساتھیوں نے یہ فتوی دکھایا جس کی عبارت کچھ یوں ہے (اگر وقت زوال سے تجاوز کر جائے اور اس کے بعد آپ نیت کریں تو روزہ جائز نہیں ہے، البتہ زوال سے پہلے جائز ہو گا) یہ بھائی کہتا ہے کہ اس نے یہ فتوی ابن القیم ؒ کی کتاب زاد المعاد سے نقل کیا ہے، آپ سے درخواست ہے کہ اس مسئلہ کی وضاحت فرما دیں کیونکہ اس کی وجہ سے بعض لوگوں کے ذہن میں بہت سے اشکالات آگئے ہیں

مسألة في نية صيام التطوع

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اہل علم کا نفلی روزے میں دن میں نیت کرنے کے بارے میں اختلاف ہے، بعض کہتے ہے کہ دن میں روزے کی ابتداء سے انتہاء تک کسی بھی وقت نیت کرے تو روزہ صحیح ہو گا، اور بعض کہتے ہیں کہ زوال سے پہلے پہلے نیت کر سکتا ہے اور حنابلہ کا مذہب یہی ہے۔ صحیح پہلا قول ہے کیونکہ زوال سے پہلے اور زوال کے بعد کی تفریق میں کوئی دلیل موجود نہیں، و اللہ اعلم۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

11/11/1424هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں