فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / غالب گمان کی بنیاد پر افطار کرنا

غالب گمان کی بنیاد پر افطار کرنا

تاریخ شائع کریں : 2017-04-20 | مناظر : 1189
- Aa +

افطار کے وقت میں ایک بہت ہی تنگ رہائشی علاقے میں تھا اور میری العصر کی گھڑی یہ بتا رہی تھی کہ جس جگہ میں ہوں یہاں پانچ بج کر دو منٹ پر اذان ہوتی ہے تو جب پانچ بج کر چھ منٹ ہوئے اور میں نے اذان نہیں سنی تو میں نے روزہ افطار کر لیا، جب میرے روزہ کھولنے کے بعد ایک منٹ گزرا تو مؤذن نے اذان دی، تو کیا اس صورت میں میں گنہگار ہوں گا؟ اور کیا اس روزے کی قضاء واجب ہے؟

الإفطار بغلبة الظن

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اگر آپ نے اس بنیاد پر افطار کیا کہ مغرب کا وقت داخل ہو چکا ہے تو آپ پر کوئی قضاء نہیں ہے، جبکہ خاص طور پر آپ نے اس پر اعتماد کیا جس پر مؤذن لوگ اعتماد کرتے ہیں ،لہذا آپ کا روزہ ٹھیک ہے۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

08/10/1424هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں