×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / روزه اور رمضان / فجر کی اذان کے وقت میں نے پانی پی لیا تو اب میرے روزے کا کیا حکم ہے؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-04-20 07:32 PM | مناظر:2856
- Aa +

فجر کی اذان جیسے ہی شروع ہوئی مجھے کھانسی ہونے لگی جس کی وجہ سے میں نے پانی بیا یہ جانتے ہوئے کہ اذان ابھی ختم نہیں ہوئی، میری علم کے مطابق تو اس لمحے میں پانی پینا جائز تھا، آپ کا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟

شربت الماء مع أذان الفجر فما حكم صيامي؟

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

قرآن کریم میں اللہ تعالی کا فرمان ہے: ((کھاؤ  پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے)) [البقرہ:۱۸۷] آیت اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ اگر فجر واضح ہو جائے تو کھانا،پینا اور جماع کچھ جائز نہیں ۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

اسی پر ایک حدیث بھی دلالت کر رہی ہے جو کہ صحیحین میں ابن عمر اور عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ((بلال رات کے وقت اذان دیتا ہے، لہذا کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے))، اور جہاں تک سنن ابی داؤد کی روایت کا تعلق ہے جو کہ ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا: ((اگر تم میں سے کوئی اذان سنے اس حالت میں کہ برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اس کو تب تک نہ رکھے جب تک اس سے ضرورت پوری کر چکے)) تو یہ ضعیف ہے، ابو حاتم نے علل میں اسے ضعیف قرار دیا ہے اور حاکم نے مستدرک میں اسے صحیح قرار دیا ہے اور کہا ہے: یہ حدیث مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو ذکر نہیں کیا۔ ابن مفلح نے فروع میں لکھا ہے(۷۰/۳): اگر یہ حدیث صحیح ہے تو اس کا مطلب ہے جب تک طلوع فجر متحقق نہ ہوا ہو، اور بیہقی نے سنن میں کہا ہے(۲۱۸/۴): اگر یہ صحیح ہے تو اس کو محمول کیا جائے گا اس صورت پر کہ اسے پتہ چل گیا ہو کہ اذان دینے والا طلوع فجر سے پہلے اذان دے رہا ہے اور اس کا پانی پینا فجر کی نماز سے پہلے ہو۔

اس بنیاد پر مؤذن حسابی کیلنڈر کے مطابق اذان دے رہا تھا جس سے طلوع فجر متحقق نہیں ہوتا تو میری رائے میں تو اذان کے وقت کھانے پینے سے کچھ مانع نہیں ہے، لیکن احتیاط ترک کرنے میں ہی ہے، واللہ اعلم۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

26/09/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں