فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

اصول فقہ / اہل مدینہ کے عمل کا حجت ہونا

اہل مدینہ کے عمل کا حجت ہونا

تاریخ شائع کریں : 2017-05-01 | مناظر : 1201
FR
- Aa +

اہل علم کے کلام میں سے یہ قول مجھے اشکال میں ڈال رہا ہے: یہ عمل مدینہ میں لوگوں کے ہاں مشہور تھا کتاب و سنت سے استدلال کئے بغیر ہی، اور یہ کہ یہ قاعدہ اللہ تعالی کے اس فرمان سے معارض نظر آرہا ہے ((اگر تم اکثر اہل زمین کی اطاعت کرو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے ہٹا دیں گے)) [الانعام: ۱۱۶] ؟

حجية عمل أهل المدينة

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

عمل اہل مدینہ کو حجت ماننے کے قاعدے کو امام دارالہجرہ امام مالک اور ان کے اصحاب نے اپنایا ہے اور اس عمل کو حجت ماننے پر جمہور اہل علم ، فقہاء اور علمائے اصول نے ان کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ عمل اہل مدینہ اور دیگر شہروں کے عمل میں کوئی فرق نہیں، لہذا جو دلیل کے موافق ہو تو حجت اسی کو مانا جائے گا جہاں کہیں بھی ہو، کتاب اللہ اور سنت رسولپر کوئی کسی کا بھی عمل حجت نہیں ہے۔

یہ مسئلہ اہل علم کے ہاں معروف ہے، کتب اصول اور دیگر کتب میں مذکور ہے اور اس کی بہت سی فروع اور تفاصیل بھی ہیں، ممکن ہے جو میں نے ذکر کیا اس سے آپ کو فائدہ ہو گا۔

آپ کا بھائی/

خالد بن عبد الله المصلح

01/04/1425هـ

 

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں