×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / اصول فقہ / یہ نہی کراہت کی ہے یا حرمت کی؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-01 09:47 AM | مناظر:2204
- Aa +

بخاری نے اپنی صحیح میں ابن عمرؓ کی حدیث ذکر کی ہے کہ نبی ﷺ نے قزع سے منع فرمایا ہے، ممانعت ظاہری طور پر تو حرمت کا ہی تقاضا کرتی ہے، جبکہ فقہائے حنابلہ کہ کتب میں اور اسی طرح الشرح الممتع میں ہم دیکھتے ہیں کہ ممانعت کی توجیہ کراہت کے ساتھ کی گئی ہے، تو اس پر کیا دلیل ہے کہ نہی کراہت کیلئے ہے نہ کہ حرمت کیلئے؟

النهي هل هو للكراهة أم التحريم؟

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اسی قاعدہ پر بناء کرتے ہوئے یہ عرض ہے کہ ایسی ممانعت جو آداب سے متعلق ہوتی ہے اس کو کراہت پر محمول کیا جاتا ہے، جمہور علماء کا یہی مذہب ہے۔

علماء کی ایک جماعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممانعت کا تعلق حرمت کے ساتھ ہے یہاں تک کہ جو آداب کے بارے میں وارد ہوئی ہو اس کا بھی اور یہ ظاہریہ اور بعض دیگر فقہاء کا مذہب ہے۔

آپ کا بھائی/

خالد بن عبد الله المصلح

29/03/1425هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں