فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

اصول فقہ / کیا اہل سنت کا اجماع شیعہ کے بغیر منعقد ہو جاتا ہے؟

کیا اہل سنت کا اجماع شیعہ کے بغیر منعقد ہو جاتا ہے؟

تاریخ شائع کریں : 2017-05-12 | مناظر : 1108
- Aa +

دکتور وہبۃ الزحیلی کے قول کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے کہ اجماع صرف اہل سنت کا بغیر شیعہ مجتہدین کے منعقد نہیں ہوتا؟ اور یہ انہوں نے اپنی کتاب اصول الفقہ صفحہ ۴۴ میں ذکر کیا ہے

هل ينعقد إجماع أهل السنة بدون الشيعة؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 مجھے ڈاکٹر وہبۃ الزحیلی کے کلام کا علم نہیں ہے اور نہ ہی میرے پاس کوئی ایسی کتاب ہے جس سے مذکورہ سؤال کے بارے میں مراجعت کر سکوں، لیکن مسألہ بالا میں اہل علم جن میں اصولیین اور دیگر شامل ہیں کلام کیا ہے اور محل بحث وہ شخص جس کا اجماع معتبر ہونا چاہئیے اس کے اوصاف کے بارے میں ہے۔

اکثر اہل علم (اصولیین اور فقہاء) کا مذہب یہ ہے کہ اجماع میں فاسق کے قول کا کوئی اعتبار نہیں چاہے اس کا فسق اعتقاد کے اعتبار سے ہو یا افعال کے اعتبار سے۔

اور بہت سے اہل علم نے اعتقادی فسق کی مثال روافض سے دی ہے، مرداوی ؒ اپنی کتاب "التحبیر شرح التحریر" {۴/۱۵۶۰} میں لکھتے ہیں: "فاسق کا قول مطلقاََ شمار نہیں کیا جائے گا چاہے اعتقاد کے اعتبار سے ہو یا افعال کے اعتبار سے۔ اور اعتقادی فسق کی مثال روافض، معتزلہ اور دیگر کی ہے"۔

اور ابن قطانؒ نے کہا ہے:ـ ’’اجماع ہمارے ہاں اہل علم کا اجماع ہے، اور جو اہل ہوی میں سے ہو تو اس کا کوئی دخل نہیں‘‘ یہ بحر محیط {۴/۴۶۸} میں نقل کیا ہے۔

جو مجھے راجح معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ شیعہ کے اختلاف کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ استدلال کے اصول میں ہی وہ اہل سنت سے اختلاف رکھتے ہیں، ان اصول میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اجماع کو نہ شمار کرتے ہیں اور نہ ہی اس کو حجت مانتے ہیں۔

اور ابہاج {۲/۲۶۴} میں لکھا ہے: "یہ بات گزر چکی کہ شیعہ اجماع کو جو کہ امت کے مجتہدین کا اتفاق ہے حجت نہیں مانتے"۔

اور یہ سب مذکورہ بحث کا تعلق فروعی مسائل سے ہے، جہاں تک عقائد کی بات ہے تو ان کا کوئی اعتبار نہیں، اگر ایسا ہو تو اہل سنت کا کوئی معاملہ اور ان کا کوئی اجماع معتبر ہی نہ ہو، واللہ اعلم۔

آپ کا بھائی/

خالد بن عبد الله المصلح

06/09/1425هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں