×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / آداب / عورت کا بغیر محرم کے بازار جانے کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-13 08:27 AM | مناظر:1388
- Aa +

کیا عورت کو بغیر محرم کے بازار جانے کی اجازت ہے؟ دلیل کیا ہے؟

خروج المرأة للسوق بدون محرم

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اصل کے اعتبار سے عورت کے بازار جانے کیلئے محرم کا ساتھ ہونا شرط نہیں ہے اگر اس سے سفر شرعی نہ لازم آتا ہو، لیکن جب بازاروں میں فساد عام ہو گیا ہے غلط نیت کے افراد کا عورتوں کے آڑے آنے کی وجہ سے تو نصیحت یہی ہے کہ اپنے گھر والوں کو اکیلے بازار میں نہ چھوڑا جائے خاص طور پر اگر اہل فسق اور شر پسند قسم کے لوگ اس کے اہل میں رغبت رکھتے ہوں، لہذا آدمی کو چاہئیے کہ اپنی زوجہ، بیٹی، ماں یا بہن کے ساتھ خاص طور پر بازار میں ساتھ ساتھ رہے اور ان کو اگر نکلنے کی اجازت دے بھی تو ایسی عورتوں کے ساتھ جو اطمئنان بخش ہوں، دیندار ہوں، عقل والی ہوں، اور چاہئیے کہ ایسے اوقات میں نکلا جائے جب فساد کا خدشہ کم ہو۔

اور جہاں تک اس بارے میں دلیل کا تعلق ہے تو محرم کے شرط ہونے پر کتاب و سنت میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے، اور یہ ہی صحابہ ؓ کے احوال سے بھی ظاہر ہے، واللہ اعلم

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

08/04/1425هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں