فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

آداب / اجنبی عورت کا اجنبی آدمی سے یہ کہنا: اللہ کیلئے مجھے آپ سے محبت ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

اجنبی عورت کا اجنبی آدمی سے یہ کہنا: اللہ کیلئے مجھے آپ سے محبت ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

تاریخ شائع کریں : 2017-05-13 | مناظر : 1752
- Aa +

اجنبی عورت کا اجنبی آدمی سے یہ کہنا: اللہ کیلئے مجھے آپ سے محبت ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

حكم قول المرأة الأجنبية للرجل الأجنبي: نحبك في الله

 

 

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 

 

میری رائے کے مطابق تو عورت کیلئے اجنبی آدمی کو اس طرح مخاطب کرنا یا ایسی چٹھی لکھنا جائز نہیں چاہے اس میں کوئی علمی پہلو ہو، دینی پہلو ہو یا کوئی دینی نفع ہو، یہ اس لئے کہ مؤمن عورت کو اجنبی آدمیوں سے نرمی سے بات کرنے سے منع کیا گیا ہے، اللہ تعالی نے ایمان والی کمال درجہ پہنچی ہوئی عورتوں سے کہا ہے جو کہ شک سے بالکل بالاتر ہیں: ((اے نبی کی بیویو! اگر تم تقوی اختیار کرو تو تم دوسری عورتوں کی طرح نہیں ہو، لہذا تم نزاکت کے ساتھ بات مت کیا کرو، کبھی کوئی ایسا شخص بیجا لالچ کرنے لگے جس کے دل میں روگ ہوتا ہے اور بات وہ کہو جو بھلائی والی ہو)) [الاحزاب:۳۲] ابن العربی نے اپنی تفسیر احکام القرآن (۵۶۸/۳) میں لکھا ہے: ’’اللہ تعالی نے انہیں حکم دیا ہے کہ ان کی بات کافی شافی ہو، اور ان کا کلام اٹل ہو، اس طرح سے نہ ہو کہ سننے والے کے دل میں کسی قسم کی اعتناء پیدا کرے اور اللہ تعالی نے انہیں یہ بھی نصیحت کی ہے کہ ان کا کلام صرف خیر ہی کی بات ہو‘‘، اللہ نے نبی کی بیویوں کو جو امہات المؤمنین ہیں نرمی سے بات کرنے سے منع فرمایا ہے، اس سے نفس قول کی نرمی بھی مراد ہے اور اداء کرنے کے انداز کی نرمی بھی مراد ہے، لہذا عورت کو چاہئیے کہ جب اجنبیوں سے بات کرے تو اپنی بات میں نرمی نہ لائے کیونکہ اسطرح سے شک و شبہہ کا عنصر بالکل دور رہے گا۔

اور جو ابو داود اور احمد نے ثابت سے انس بن مالک ؓ کی حدیث روایت کی ہے کہ نبی کے پاس ایک آدمی بیٹھا تھا، ایک دوسرا آدمی گزرا تو کہنے لگا: یا رسول اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں ، تو نبی نے کہا: کیا تم نے اسے بتایا ہے؟ کہنے لگا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: اس کو جا کر خبر دو، فرماتے ہیں کہ وہ آدمی گیا اور اس کو کہا: میں اللہ کیلئے تم سے محبت کرتا ہوں، اس نے کہا: جس کیلئے تم سے میرے سے محبت کی وہ بھی تمہارے ساتھ محبت کرے، احمد نے حسین بن واقد کے طریق سے روایت کی ہے، اور ابو داود نے مبارک بن فضالہ کے طریق سے، طبرانی نے المعجم الاوسط میں اسحاق بن ابراہیم کے طریق سے روایت کی ہے جو کہ عبد الرزاق عن معمر عن اشعث بن عبد اللہ عن انس بن مالک کے طریق سے حدیث لاتے ہیں اور اس میں یہ زیادتی بھی ہے: ((وہ پھر نبی کے پاس واپس آئے تو آپ نے پوچھا اور اس نے جو کہا تھا وہ آپ کو بتا دیا، نبی نے فرمایا: جس سے تم نے محبت کی تم اسی کے ساتھ ہو گے اور جو تم نے احتساب کیا تمہیں وہ اجر ملے گا)) اس حدیث کو ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے اور ذھبی نے حاکم کی موافقت بھی کی ہے جیسا کہ مستدرک (۱۸۹/۴) میں مندرج ہے۔ تو یہ حدیث اس بات پر دلالت نہیں کر رہی کہ عورت اجنبی مرد کو جا کر ایسی بات کہے، اسی طرح اس کے بر عکس بھی، کیونکہ یہ حدیث نفس جنس کو خبر دینے کے بارے میں وارد ہوئی ہے جس میں فتنے کا اندیشہ نہیں ہوتا اور نہ ہی شک و شبہہ کا خدشہ ہوتا ہے، اور اسی کیطرف مناوی نے فیض القدیر(۲۴۷/۱) میں اشارہ کیا ہے: ’’اگر عورت کسی دوسری عورت سے محبت کرے تو اس کا بتانا مستحب ہے‘‘۔ ہاں آدمی اپنی بیوی کیلئے تو ایسے الفاظ کہہ سکتا ہے، ایسا کچھ معلوم نہیں کہ کسی صحابیہ نے نبی کو ایسا کہا ہو جبکہ آپ سے محبت کرنا تمام اہل ایمان پر چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں سب پر فرض ہے، اور یہ بھی منقول نہیں ہے کہ آپ نے کسی صحابیہ کو ایسا کچھ کہا ہو۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے دین کی حفاظت فرمائے اور ہماری راہنمائی فرمائے، آمین۔

آپ کا بھائی/

 

 

خالد المصلح

 

 

13/09/1424هـ

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں