فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

​فتاوی امریکہ / تقدیرکیا ہے؟ اور جنت یا جہنم میں داخلے کا اس سے کیا تعلق ہے؟

تقدیرکیا ہے؟ اور جنت یا جہنم میں داخلے کا اس سے کیا تعلق ہے؟

تاریخ شائع کریں : 2017-05-13 | مناظر : 1283
- Aa +

تقدیرکیا ہے؟ اور جنت یا جہنم میں داخلے کا اس سے کیا تعلق ہے؟

ما هو القدر؟ وما علاقته بدخول الجنة والنار؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ اللہ تعالی عادل ہیں کسی پرظلم نہیں کرتے، اللہ تعالی کا فرمان ہے :((اللہ لوگوں پر بالکل ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں)) [یونس:۴۴] اور ایک دوسری جگہ فرمایا: ((اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے)) [فصلت:۴۶] اور فرمایا: ((اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا)) [ہود:۱۰۱]، اور فرمایا: ((اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا)) [النساء:۴۰] اور اس مضمون پر اور بھی بہت ساری آیات ہیں اور سنت میں بھی یہ مضمون موجود ہے جو کہ ابو ذر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے اپنے رب سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: "اے میرے بندو میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر رکھا ہے اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام کیا ہے پس ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو"۔

دوسرا یہ کہ اللہ تعالی نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ کیا عمل کریں گے اللہ تعالی کے علم میں ہے کہ کون جنت میں جائے گا اور کون جہنم میں، اور ہر کسی کیلئے جو اس نے عمل کرنا ہے اس کا راستہ آسان کیا گیا ہے، لہذا کائنات میں جو کچھ بھی ہے اس سے متعلق علم اللہ تعالی کو پہلے سے ہے، عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: "اللہ تعالی نے آسمانوں اور امین کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے ہی مخلوق کی تقدیر لکھ دی تھی، اور اللہ کا عرش پانی پر ہے"۔

تیسرا یہ کہ یہ بات بھی جاننے کی ہے کہ اللہ تعالی کا اردہ دو طرح کا ہے: ایسا ارادہ جس کا تعلق کائناتی نظام ، تقدیر و تخلیق سے ہے، اس ارادے میں محبت نہیں پائی جاتی جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان لسان نوح کے واسطہ سے ہے: ((اگر میں تمہیں نصیحت کرنا چاہوں تو میری نصیحت تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گی اگر اللہ نے تمہیں بھٹکانے کا دعوی کر ہی لیا ہے وہ تمہارا رب ہے اور تم نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے)) [ھود: ۳۴] تو یہاں ارادے سے مراد وہ تقدیر ہے جس کا محبت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اللہ تعالی کفر اور شرک کو پسند نہیں کرتے، فرمان  باری تعالی ہے: ((اور وہ اپنے بندوں کیلئے کفر پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر ادا کرو تو وہ اس سے راضی ہوتا ہے)) [الزمر: ۷

ارادے کی دوسری قسم ہے: شرعی ارادہ، اس ارادے کے لوازمات میں سے محبت بھی ہے اور اسی کا حکم اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو کیا ہے، فرمایا: ((اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے لئے مشکل نہیں چاہتا)) [البقرہ:۱۸۵

چوتھی بات یہ ہے کہ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ کوئی بھی جنت میں اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا، آپ کا فرمان ہے: (کسی کو اس کا عمل ہر گز جنت میں داخل نہیں کر سکتا) صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: (نہیں ہرگز نہیں الا یہ کہ میرا رب مجھے اپنی رحمت اور اپنے فضل میں ڈھانپ لے) رواہ الشیخان، اور یہ بھی جان لینا چاہیئے کہ کوئی بھی آگ میں اللہ کے عدل کے بغیر داخل نہیں ہو سکتا ((اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا)) [النساء:۴۰] تو جو بھی جہنم میں داخل ہو گا وہ اس کا مستحق ہو گا اور یہ بھی نہیں سمجھے گا کہ اس پر ظلم کیا گیا ہیں تمام مخلوقات اللہ کے فیصلوں سے رضامند ہونگی، یا تو اللہ کے فضل یا عدل کر درمیان سب ہونگے، اللہ کے سوی کوئی بھی عذر کے اتنا پسند کرنے والا نہیں ہے جتنا وہ ہے اسی وجہ سے ہر جگہ پر اللہ نے اپنے بندوں کو خبردار کرنے کیلئے انبیاء مبعوث فرمائے۔

پانچویں یہ بات جان لینی چاہئیے کہ اللہ تعالی نے مخلوقات کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں ((اور میں نے جن و انس کو صرف اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں)) [الذاریات:۵۶] اور عبادت کا ہی ان کو حکم بھی کیا، فرمان ہے: ((اور تمہارے رب نے فیصلہ کیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو)) [الاسراء:۲۳] اللہ سبحانہ و تعالی جس کو چاہتے ہیں اپنے فضل اور احسان سے ہدایت دیتے ہیں، اور جس کو چاہتے ہیں ذلیل بناتے ہیں اور آزمائش میں ڈالتے بھی ہیں تو اپنے عدل کی بنیاد ہر، اللہ تعالی نے جب مخلوقات کیلئے حق واضح کر دیا تو بعض کی سیدھا راستے پر چلنے میں اعانت کی اور بعض کو رسوا کیا اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا تو وہ گمراہ ہو گئے اور راستے سے ہٹ گئے، فرمایا:((تو جب وہ بھٹک گئے اللہ نے ان کے دلوں کو بھی بھٹکا دیا)) [الصف:۵] تو کسی کو نصیحت کرنا اور بات واضح کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ سیدھے راستے پر لانے میں معاون ہیں، بلکہ آپ تو محض راستے پر دلالت کر رہے ہیں اور پتہ پتا رہے ہیں نہ کہ اس پر چلنے میں مدد کر رہے ہیں اور اس میں آپ کی ذات پر یا آپ کی نصیحت میں بھی کوئی عیب والی بات نہیں ہے، بلکہ آپ نے تو حق واضح کر کے احسان کیا ہے، اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلئے راستہ بیان کر دیا ہے اور اس کی طرف دعوت دی ہے اور جو اس پر چلے گا اس سے جنت کا وعدہ کیا ہے، تو جس نے اسے اختیار کیا وہ کامیابی حاصل کر گیا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ خسارے میں رہا۔

چھٹی بات یہ ہے کہ سوچ کو اور زبان کو تقدیر کے معاملے میں کھلا چھوڑ دینا گمراہی اور ہلاکت ہے، امام طحاوی ؒ نے فرمایا ہے: ’’تقدیر کی اصل تو یہ ہے کہ یہ تخلیق کے اعتبار سے اللہ تعالی کا ایک راز ہے جس کو نہ کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے اور نہ ہی کوئی نبی، اور اس میں زیادہ سوچ بچار کرنا خذلان کا ذریعہ، محرومیت کی سیڑھی اور بغاوت کا درجہ ہے لہذا اس سے نظر سوچ اور وسوسہ ہر اعتبار سے بچنا ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالی نے مخلوق کو تقدیر کے علم سے دور رکھا ہے اور اس تک پہنچنے سے بھی منع کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ((اس سے نہیں پوچھا جاتا وہ جو بھی کرے اور لوگوں سے پوچھا جاتا ہے)) [الانبیاء:۲۳]، تو جس نے سؤال کیا:کہ ایسا اللہ نے کیوں کیا تو گویا اس نے تقدیر کے حکم کورد کر دیا اور جس نے تقدیر کو رد کر دیا وہ کافر ہو گیا‘‘، اور انہوں نے یہ بھی تحریر کیا: ’’ہلاکت ہے اس کیلئے جو تقدیر میں اللہ تعالی سے جھگڑنے لگا، اور اس کے بارے میں بیمار دل کے ساتھ سوچنا شروع کر دیا، اس نے اپنے وہم سے غیب کو جاننے کیلئے مخفی راز کھولنے کی کوشش کی اور اس کا مصداق بن گیا جو کہ اللہ تعالی نے افاک اور اثیم کہا ہے ، یعنی جھوٹا اور گنہگار۔

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں