فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

​فتاوی امریکہ / کیا ایسی مخلوقات موجود ہیں جو جن کہلاتی ہیں؟

کیا ایسی مخلوقات موجود ہیں جو جن کہلاتی ہیں؟

تاریخ شائع کریں : 2017-05-15 | مناظر : 1091
EN
- Aa +

کیا ایسی مخلوقات موجود ہیں جو جن کہلاتی ہیں؟ میں نے قرآن میں پڑھا کہ بعض مخلوقات جنہیں جن کہا جاتا ہے موجود ہیں تو کیا یہ صحیح ہے؟ اور کیا ان سے مدد لینا صحیح ہے؟

هل يوجد مخلوقات تُدعى الجن؟

 

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

جیسا کہ آپ نے ذکر کیا کہ آپ کو قرآن سے جنات کے وجود کا مفہوم ملا تو یہ بالکل صحیح مفہوم ہے ، اللہ تعالی نے تین طرح کے عالم پیدا کئے ہیں: فرشتوں کا عالم، جنوں کا عالم، اور انسانوں کا عالم اور یہ تمام عالم ایسی مخلوقات ہیں جو عقل رکھتی ہیں انہیں مکلف کیا گیا ہے، اور مسلمانوں میں سے کسی نے بھی جنوں کے وجود کی نفی نہیں کی اور نہ ہی اس بات کی کہ اللہ تعالی نے محمد کے ان کی طرف بھی نبی بنا کر بھیجا تھا اور یہ کہ وہ بھی احکامات کے مکلف اور مأمور ہیں اور اللہ تعالی نے انہیں بعض ایسی طاقات دے رکھی ہیں جن سے انسان عاجز و محروم ہیں، مثال کے طور پر ان کو اس بات پر قدرت حاصل ہے جس شکل میں چاہیں وہ آسکتے ہیں چاہے انسان کی شکل ہو یا حیوان کی، اور بہت سارے اعمال بہت جلد کرنے کی بھی قوت دی ہے اور اس کے علاوہ بھی نوازا ہے، انہیں اللہ تعالی نے اپنے نبی سلیمان  ؑکیلئے مسخر کر رکھا تھا یہ ان کے پاس کام کرتے تھے، فرمایا: ((اور جنوں میں  سے بھی تھے جو اپنے رب کی اجازت سے ان کے سامنے کام کرتے تھے اور ان میں سے جس نے ہمارے امر کی خلاف ورزی کی اسے ہم آگ کا عذاب چکھائیں گے ، وہ ان کیلئے جیسے وہ چاہتے محراب، مورتیاں ، اور حوض جیسے بڑے پیالے اور گڑھی ہوئی دیگیں بناتے تھے)) [سبا:۱۲،۱۳] اور فرمایا: ((چنانچہ ہم نے ہوا کو ان کے قابو میں کر دیا جو ان کے حکم سے جہاں وہ چاہتے ہموار ہو کر چلا کرتی تھی اور شریر جنات بھی ان کے قابو میں دے دئے تھے جن میں ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور شامل تھے اور کچھ وہ جنات جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے)) [ص:۳۶،۳۷،۳۸،۳۹] یہ تسخیر سلیمان ؑ کی دعا کی قبولیت کی وجہ سے حاصل ہوئی تھی جو کہ انہوں نے دعا مانگی تھی: ((اور مجھے ایسی مملکت عطا کر جو میرے بعد کسی کو نہ ملے بے شک تو ہی بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے)) [ص: ۳۵

 تو یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جنوں کے اوپر تسلط یہ صرف سلیمان ؑ کی خصوصیت تھی، ان کے بعد کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی اسی وجہ سے نبی جب ایک جن نماز کے دوران آُ کے پاس آیا اس کو مسجد کے ستون کے ساتھ باندھنے سے رک گئے اور فرمایا: ((ایک سرکش جن کل رات میری نماز خراب کرنے آیا تو اللہ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے اسے پکڑ لیا اور مسجد کے ستون کے ساتھ باندھنا چاہا تاکہ تم سب اس کو دیکھ سکو تو مجھے اپنے بھائی سلیمان کی دعا یاد آ گئی: اے میرے رب میری مغفرت فرما اور مجھے ایسی مملکت عطا کر جو میرے بعد کسی اور کو نہ ملے [ص] تو میں نے اسے دھتکار کر واپس کر دیا)) یہ روایت بخاری اور مسلم میں موجود ہے اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

لہذا یہ بات علم میں ہونی چاہئیے کہ نہ شرعی اعتبار سے نہ ہی طاقت کے اعتبار سے عام لوگوں کو جنوں پر قدرت حاصل ہو سکتی ہے، لیکن کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اپنے بعض اولیاء کو کرامت بخشتے ہیں اور جنوں میں سے بعض کو ان کی اعانت پر لگا دیتے ہیں، یا تو ان اولیاء کو پتہ ہوتا ہے یا کبھی پتہ بھی نہیں ہوتا۔

 اور جہاں تک ان سے مدد طلب کرنے کی بات ہے تو اس بارے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے، اور احتیاط اسی میں ہے کہ بندہ اس سے بچے کیونکہ یہ فعل ایک بدعت کی سی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ صحابہ ؓ اور دیگر سلف صالح سے ایسا کچھ منقول نہیں کہ انہوں نے جنات کو استعمال کیا ہو، اور اس امت کے آخری دور میں بھی صلاح اسی طریقے سے آئے گی جس طریقے سے اس کے پہلوں میں تھی، نبی کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ ان پر بہت مشکل حالات آئے  اور احد اور خندق جیسے مواقع مصائب کا سامنا کرنا پڑا مگر انہوں نے اپنا دل اللہ سے ہی معلق رکھا اور اسباب میں صرف انہیں کا استعمال کیا جو بشری طاقت میں سے ہی تھے، اور بعض اہل علم نے جنات کے ساتھ معاملہ رکھنے کی ممانعت پر اس آیت سے استدلال کیا ہے: ((کیا میں تمہیں خبر دوں شیاطین کس پر نازل ہوتے ہیں ، ہر جھوٹے اور بہت زیادہ گناہگار شخص پر نازل ہوتے ہیں)) [الشعراء:۲۲۱،۲۲۲] اور اس آیت سے: ((اور اس دن کا دھیان رکھو جس دن اللہ ان سب کو گھیر کر اکٹھا کرے گا اور کہے گا: اے جنات کے گروہ تم نے انسانوں کو بہت بڑھ چڑھ کر گمراہ کیا ہے اور انسانوں میں سے جو ان کے دوست ہوں گے وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم ایک دوسرے سے خوب مزے لیتے رہے ہیں)) [الانعام:۱۲۸] اور اس آیت سے: ((اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات کے کچھ لوگوں کی پناہ لیا کرتے تھے اس طرح ان لوگوں نے جنات کو اور سر چڑھا دیا تھا)) [الجن:۶]، پھر ایک بات یہ بھی ہے کہ جنوں میں غالب یہی ہے کہ وہ انسانوں کی خدمت نہیں کرتے مگر اس صورت میں کہ انسان کچھ حرام افعال کے ارتکاب کے ذریعے ان کی قربت حاصل کریں جیسے یہ کہ ان کیلئے ذبح کریں یا کلام اللہ کو نجاست سے لکھیں ، اسی طرح کے بعض اور حرام افعال۔

اور جہاں تک دین کی نصرت کیلئے ان کے استعمال کا تعلق ہے تو اس کا بھی جواب یہی ہے کہ نہ ایسا رسول اللہ نے کیا نہ ہی صحابہ ؓ نے حالانکہ ان کو شدید حاجت بھی تھی، لہذا یہ اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ دین کی نصرت یا احوال کی تبدیلی کیلئے یہ راستہ نہیں اپنانا چاہئیے، کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالی دین کی نصرت کیلئے انہیں مسخر کر دیتے ہیں لیکن اللہ تعالی کی عام سنت یہی رہی ہے کہ  اس دین کی قوت اورنصرت کیلئے عام طور پر بشری قوت انسانوں کی محنت اور طاقت کو استعمال میں لایا گیا ہے، ہم پر واجب یہی ہے کہ جو ہمارے بس میں ہے اسے ہم دین کی نصرت کیلئے لگائیں اور یہ بات ہمارے علم میں رہے کہ اللہ ہی اصل مددگار ہے اور وہ اپنی جماعت کو غلبہ دے کر رہے گا۔

متعلقہ موضوعات

آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں