×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​فتاوی امریکہ / اصحاب کہف کون تھے؟ اور ملکہ یمن بلقیس کے عرش کو متنقل کرنے کی کیا حقیقت ہے؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-15 03:06 PM | مناظر:2158
- Aa +

اصحاب کہف کون تھے اور اللہ تعالی نے انہیں پورے عالم سے مخفی کیسے رکھا؟اور بلقیس کے عرش کو منتقل کرنے کی کیا حقیقت ہے؟ اور کیا بلقیس کو نظر کا دھوکا لگا جب وہ سلیمان ؑ کے محل میں داخل ہوئی؟ من هم أصحاب الكهف؟

وما حقيقة نقل عرش بلقيس ملكة اليمن؟

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اہل کہف بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان تھے ، اللہ تعالی نے ان کا قصہ ہمیں عبرت حاصل کرنے اور نصیحت پکڑنے کیلئے سنایا ہے: ((اور ان کے قصوں میں عقل والوں کیلئے عبرت ہے)) [یوسف:۱۱۱]، اور وہ کون تھے؟ کس زمانے میں تھے؟ ان کا عدد کیا تھا؟ اور ان کے احوال کی کیا تفصیل ہے؟ یہ سب بنی اسرائیل کی خبروں میں سے ہے، اگر اس میں ہمارے لئے کوئی فائدہ اور مصلحت ہوتی اللہ تعالی بیان فرما دیتے، لہذا جس میں کوئی فائدہ نہیں یا اس فائدے سے کوئی عبرت حاصل نہ ہو تو اس بحث میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اور جہاں تک یہ بات ہے کہ اللہ تعالی نے سارے عالم سے انہیں کیسے مخفی رکھا، تو ہمیں اس بات کا نہ کوئی علم ہے نہ کوئی معرفت، کیونکہ کیفیت کی خبر اللہ اور اس کے رسول کے خبر دینے پر موقوف ہے، اور جہاں تک مجھے علم ہے کتاب اللہ اور سنت رسول میں کچھ ایسا وارد نہیں ہوا جس سے یہ واضح ہو کہ اللہ نے ان کو کیسے مخفی رکھا لیکن میرے بھائی آپ کیلئے یہ جاننا کافی ہے کہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے اور ہر کام اس کیلئے آسان ہے، یہ بھی تب ہے جب ہمیں یہ کہیں کہ انہیں مخفی رکھنا مشکل ہے، ورنہ مجھے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے، کیونکہ اس زمین میں بہت کچھ ہے جو لمبے عرصے تک مخفی رہا پھر منکشف ہوا اور دنیا کو معلوم ہوا، اور یہ یا تو دوری کی وجہ سے تھا یا پہنچ نہ سکنے کی وجہ سے یا کسی اور سبب کے تحت۔

اور جہاں تک بلقیس کے تخت کے منتقل کرنے کی بات ہے تو اللہ تعالی نے سورۃ النمل میں یہ قصہ بیان کیا ہے، اور یہ منتقل ہونا حقیقی تھا نہ کہ نظر کا دھوکہ بلکہ یہ تو سلیمان ؑ کی نبوت پر دلالت کرنے والے معجزوں میں سے تھا، اور اسی وجہ سے بلقیس ایمان بھی لے آئی، اور جو آپ نے نظر کے دھوکے کی بات کی تو وہ بلقیس کا گمان تھا جب وہ محل میں داخل ہوئی، اس محل میں جو سلیمان ؑ نے شیشے سے تعمیر کروایا تھا، اور اس کے نیچے پانی جاری کرا دیا تھا تاکہ اللہ نے انہیں جو قدرت، طاقت اور مملکت دی ہے اس کو ظاہر کر سکیں، تو جب اسے کہا گیا، محل میں داخل ہو تو اس سے اسے پانی کی لہر سمجھا جس میں وہ ڈوب جائے گی، اور یہ کوئی نظر کا دھوکہ نہیں تھا بلکہ حقیقی محل تھا، تو یہ نقات ایسے نہیں ہیں جو پس پردہ ہوں اور حقیقت مخفی ہو، بلکہ حقیقت تو دراصل اللہ کے کلام کے معانی نہ جاننے سے مخفی ہوتی ہے، لہذا جب بھی بندہ علم اور عمل میں آگے بڑھتا ہے اس کیلئے مزید حقائق کھلتے ہیں اور اس کے دل سے شبہات کے بادل چھٹ جاتے ہیں، اللہ سے دعا ہے کہ اپنے فضل میں سے ہمیں عطا کرے


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں