فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

​فتاوی امریکہ / آیات محکمات اور آیات متشابہات سے مقصود

آیات محکمات اور آیات متشابہات سے مقصود

تاریخ شائع کریں : 2017-05-15 | مناظر : 3326
EN
- Aa +

اللہ رب العزت کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے: (وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی جس میں کچھ آیتیں تو محکم ہیں جن پر کتاب کی اصل بنیاد ہے اور کچھ دوسری آیتیں متشابہ ہیں) [آل عمران:۷]؟

المقصود بالآيات المحكمات والمتشابهات

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

یہ بات معلوم ہونی چاہئیے کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب کو احکام کے وصف سے نوازا ہے، فرمایا: ((الر یہ کتاب وہ ہے جس کی آیتوں کو مضبوط کیا گیا ہے پھر ایک ایسی ذات کی طرف سے ان کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جو حکمت کی مالک اور ہر بات سے باخبر ہے)) [ہود:۱] اللہ تعالی نے اپنی کتاب کو مضبوط کا وصف دیا ہے اور یہ وصف عام ہے جو کہ پوری کتاب پر صادق آتا ہے اور ان آیات میں احکام کا مطلب مضبوطی ہے، اللہ کی کتاب مضبوط ہے باطل نہ اس کا سامنے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے، اسی طرح اپنی کتاب کو متشابہ کا وصف بھی دیا ہے فرمایا: ((اللہ نے بہترین کلام نازل کیا جو کہ ایسی کتاب جس کے مضامین ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں جس کی باتیں بار بار دہرائی گئی ہیں))[الزمر:۲۳] یہ وصف بھی پوری کتاب پر صادق آتا ہے اور اس آیت میں تشابہ کا مطلب کلام کی مماثلت ایک دوسرے سے مناسبت اور اس طرح سے مخصوص معنی میں ہونا ہے کہ اس کا بعض حصہ بعض کی تصدیق کرے، لہذا اس کی خبروں اور احکام میں کوئی اختلاف نہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ((اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی کی طرف سے ہوتا تو ان کو اس میں بہت اختلاف ملتا)) [النساء:۸۲،۸۳]، اسی طرح اللہ تعالی نے اپنی کتاب کو ایک اور وصف بھی دیا ہے کہ اس میں کچھ آیات محکمات ہیں اور کچھ متشابہات ہیں اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ مؤمنین کا طرز یہ ہے کہ وہ محکم کی اتباع کریں اور متشابہ پر ایمان لائیں اور بھٹکے ہوؤں کا طرز یہ ہے کہ محکم سے اعراض کریں اور متشابہ کی اتباع کریں تو قرآن کی بعض آیات کو جو محکم کا وصف دیا گیا ہے تو اس کا معنی یہ ہے ان میں صرف ایک صحیح معنی کا ہی احتمال ہے اور متشابہ کا معنی یہ ہے کہ جس میں دو یا دو سے زیادہ کا احتمال ہو، ایک معنی تو صحیح ہو اور دوسرا باطل ہو اور لوگوں پر یہ مشتبہ ہو جائے کہ کونسا معنی مراد ہے اور ان معانی میں سے صحیح معنی کے اختیار کرنے کا معیار یہ ہے کہ کونسا محکم کے زیادہ قریب ہے، ایک مثال سے بات زیادہ واضح ہو جائے گی: جیسے یہ کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں بہت سی آیات میں یہ واضح کیا ہے کہ معبود صرف ایک ہی ہے اور وہ اللہ اکیلا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، فرمایا: ((کہہ دیجئے وہ اللہ اکیلا ہے)) [الاخلاص:۱] اور بعض آیات میں آیا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے آپ کیلئے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے، جیسے فرمایا: ((ہم نے ہی یہ ذکر (قرآن) نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں)) [الحجر:۹] تو پہلی آیت محکم ہے جو اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ اللہ صرف ایک ہے اور دوسری آیت میں احتمال ہے کہ جمع کے صیغے سے مراد تعظیم ہے یا اس سے مراد تعدد ہے، تو جس کے دلوں میں کھوٹ ہے وہ متشابہ کا اتباع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ معبود متعدد ہیں بہت سارے ہیں، اور ہدایت والے راستے کی اتباع کرنے والے متشابہ کو محکم پر محمول کرتے ہیں تو محکم کو اصل قطعی مانتے ہیں اور وہ یہ کہ اللہ ایک ہی ہے جبکہ جمع کا صیغہ تعظیم کیلئے ہے نہ کہ تعدد کیلئے۔

اور بندے پر واجب یہ ہے کہ نصوص کے بارے میں توقف اختیار کرے اور استطاعت سے بڑھ کر تکلف نہ کرے اور اس پر لازم ہے کہ اس بات کا اعتقاد رکھے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جو بھی غیب کی خبریں آئی ہیں جن کا تعلق اللہ سے یا یوم آخرت سے، ملائکہ یا جن سے یا اس کے علاوہ کوئی غیب کی اخبار ہوں تو یہ سب ایسے ہی ہیں جیسے اللہ اور اس کے رسول نے فرما دیا اور یہ حقیقت پر محمول ہیں اور معنی وہی ہے جو اللہ کی مراد ہے ، ہم ان میں اپنی آراء کے ذریعے تأویل نہیں کریں گے اور اپنی خواہشات کے ذریعے وہم پیدا نہیں کریں گے کیونکہ دین کے معاملے میں وہی سلامت رہتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی پوری اطاعت کرے۔

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں