×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / احکام میت / مقبروں میں تلاوت قرآن کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-16 09:01 AM | مناظر:2400
- Aa +

مقبروں میں تلاوت قرآن کا کیا حکم ہے؟

حكم تلاوة القرآن في المقابر والأضرحة

جواب

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہیں۔

قبر پر تلاوت کرنے کو اہل علم کی ایک جماعت نے مکروہ لکھا ہے ، جن میں امام ابو حنیفہ، امام مالک ؒ ہیں اور امام احمد سے بھی اکثر روایا ت اسی کی مروی ہیں، اور ان سے اس بارے میں رخصت بھی مروی ہے، بعض اہل علم نے دفن کے وقت اور دفن کئے جانے کے بعد کی قراءت کے درمیان تفریق کی ہے، اور یہ کہ اس کو مستقل کرنا تو اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ یہ بدعت ہے لیکن اگر کوئی عارضی طور پر کچھ تلاوت کر لیتا ہے جیسے دفن سے فارغ ہونے کے انتظار میں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، واللہ اعلم

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

10/03/1425هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں