×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​زکوٰۃ / دعوت کے امورمیں زکوٰۃ کا مال خرچ کرنا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-16 09:36 AM | مناظر:1847
- Aa +

جناب من السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میراسوال یہ ہے کہ کیا دعوتی منصوبوں کے سرمایے میں زکوٰۃ کا مال صرف کرنا جائز ہے ، جیساکہ حفظِ قرآن یا کتابوں اور کیسٹوں وغیرہ کی نشرو اشاعت کے مراکز میں؟

صرف الزكاة في الدعوة إلى الله

جواب

حمد وثناء کے بعد۔۔۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

جی ہاں ! یہ جائز ہے ، خاص کر جب ان دعوتی مراکز کا کوئی اور ذریعہ اور وسیلہ نہ ہو ، کہ اس صورت میں یہ بھی آیت میں اللہ کی راہ میں مذکورہ زکوٰۃ کے مستحقین کے تحت آجاتے ہیں ، اس لئے کہ علماء کے ایک قول کے مطابق اس مصرف سے مقصود بھی جہاد فی سبیل اللہ ہے ، کیونکہ جہاد کی دوقسمیں ہیں: ایک شمشیر وسناں کے ساتھ اور دوم علم وبیاں کے ساتھ ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبکوحکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اور اس قرآن کے ذریعہ ان کافروں کے ساتھ بڑا جہاد کر‘‘ [الفرقان: ۵۲]۔ یہاں تمام مفسرین کے ہاں اس سے مراد قرآن ہے کیونکہ یہ آیت بالاتفاق مکی ہے جو کہ جہاد بالسیف کی فرضیت سے پہلے نازل ہوئی  ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہاں قرآن کی نشرواشاعت اور دعوت وتبلیغ کو جہادِ اکبر کا نام دیا ہے ، مناسب یہی ہے کہ زکوٰۃ کا مال ان کے وصول کنندہ مستحقین کو ملے کہ یہی اصل زکوٰۃ ہے۔

آپ کا بھائی/

أ.د/ خالد المصلح

22 /9/ 1428هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں