×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​زکوٰۃ / مستحقینِ زکوٰۃ کو کتنی زکوٰۃ دی جائے ؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-16 09:41 AM | مناظر:1891
- Aa +

جناب من السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، میراسوال یہ ہے کہ مستحقینِ زکوٰۃ کو کتنی زکوٰۃ دی جائے ؟

قدر ما يعطى مَن يستحق الزكاة

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

زکوٰۃ کی ادائیگی میں اصل بات یہ ہے کہ زکوٰۃ کے مستحق کو اس کی ضرورت کے بقدر دیا جائے ، اور یہ کیفیت ان آٹھ مصارف کے اختلافِ احوال کے اعتبارسے ہوگی جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے ، لہٰذا اس کو سال یا سال سے کم عرصے میں مقید نہیں کیا جاسکتا، پس ایک راہ گیر مسافر کو اتنا دیا جائے گا جو اس کو اس کے وطن تک پہنچا سکے اور اس کی کفایت ایک سال تک لازم نہیں ہوگی اس لئے کہ عین ممکن ہے کہ وہ اپنے وطن میں تو مالدار ہو، اسی طرح قرضدار کو اتنا دیا جائے گا جس سے وہ اپنا قرضہ ادا کرسکے ، اور اس سے زیادہ دینا ا س کو لازم نہیں آئے گا۔

لیکن فقیرومسکین کے بارے میں فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ان کو اتنا دیاجائے گا جو ان کے سال تک کے لئے کافی ہو جائے ، اور ان کے علاوہ جو باقی لوگ ہیں تو ان کو اتنا دیا جائے گا جس سے ان کی ضرورت پوری ہوسکے۔

آپ کا بھائی/

 أ.د.خالد المصلح

5 /3 / 1434هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں