×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​زکوٰۃ / کیا قرض کے مال میں زکوٰۃ واجب ہے ؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-16 09:50 AM | مناظر:1930
- Aa +

کیا قرض کے مال میں زکوٰۃ واجب ہے ؟

هل تجب الزكاة في القروض؟

جواب

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اگر یہ مال کسی ایسے شخص کے پاس ہو کہ اس سے جس وقت بھی طلب کرو تو وہ اسی وقت دے دے تو یہ ایسا ہے جیسا اس کے قبضہ میں ہے لہٰذا اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی، اور اگر یہ مال کسی ایسے شخص کے پاس ہو جس کو اس کی ادائیگی میں اپنے آپ کو تیار کرنے کی ضرورت ہو یا وہ مدت سے پہلے مطالبہ کرے یا وہ ایک مہلت تک انتظار کرے تاکہ وہ اسے ادا کرے تواس کے بارے اہل علم کے تین اقوال ہیں : ایک یہ کہ ایک ہی سال کے لئے زکوٰۃ ادا کرے دوسرا قول یہ کہ ہر سال ادا کرے اورتیسرا قول یہ کہ اس میں کوئی زکوٰۃ نہیں۔

اور ان سب میں أقرب الی الصواب تیسرا قول ہی ہے کہ اس میں کوئی زکوٰۃ نہیں، یعنی لوگوں کا وہ مال جو بینکوں میں ہوتا ہے تو یہ دَین ہی کی ایک قسم ہے ، لیکن اب سوال یہ ہے کہ اگروہ اس کو طلب کریں تو کیا اس کے مطالبہ میں کسی قسم کی پریشانی ہوتی ہے ؟ اگر جواب ’’نہیں‘‘ ہے تو پھر یہ وائلٹ میں رکھے ہوئے مال کی طرح ہے جو تحت التصرف ہے ، اسی طرح اگر وہ مال کسی ایسے مالدار شخص کے پاس ہو کہ جب بھی اس سے مطالبہ کرو تو وہ آپ کو خوش آمدید کہے تو یہ بھی گویا ایسے ہے جیسے یہ آپ کے تحت التصرف ہے لہٰذا جب بھی اس پر سال گزرے گا تو آپ پر اس کی زکوٰۃ لازم ہوگی ، اور چاہیں تو آپ اس کی زکوٰۃ ابھی ادا کریں یا قبضہ میں آنے کے بعد اداکریں دونوں برابر ہیں ۔

اس میں دوسری صورت یہ ہے کہ آپ کا مال اگر کسی تنگدست کے پاس ہے یا کسی ایسے مالدار شخص کے پاس ہے جو ٹال مٹول اورآجکل سے کام لیتا ہو تو اس میں بھی راجح قول کے مطابق زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، لیکن اس میں اہل علم کی ایک جماعت کا قول ہے کہ جب اس کا قبضہ ہوجائے تو وہ ایک مرتبہ اس کی زکوٰۃ اد اکرے گا، اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ جب کئی سال گزر جائیں تو قبضہ کرنے کے بعد زکوٰۃ نہیں دے گا۔

اور ان سب میں أقرب الی الصواب قول یہ ہے کہ اس صور ت میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں